پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں کچہری کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود نے کی تھی۔ حملہ آور عثمان شنواری ننگرہار افغانستان کا رہائشی تھا، جسے ساجد اللہ عرف شینا نے پاکستان لایا اور خودکش جیکٹ فراہم کی۔تحقیقات کے مطابق آئی بی اور سی ٹی ڈی نے حملے کے صرف 48 گھنٹوں کے اندر چار ملزمان ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا۔ ساجد اللہ عرف شینا نے افغانستان میں مختلف تربیتی کیمپوں میں تربیت حاصل کی تھی اور خودکش حملے کی منصوبہ بندی داد اللہ نامی شخص کے ذریعے کی گئی۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ دہشتگرد بڑا نقصان کرنا چاہتے تھے لیکن ناکام رہے اور حملہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ گرفتاری دہشتگردی کے خاتمے اور ملک میں سیکورٹی کی مضبوطی میں اہم کامیابی تصور کی جاتی ہے۔
اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ نور ولی محسود تھا وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
