پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران پر 30 اگست سے جاری امریکی بمباری میں مجموعی طور پر 21 افراد جاں بحق اور 140 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں نیوی اور فضائیہ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق امریکی حملوں میں ایرانی فوج کے 3 پائلٹس بھی شہید ہوگئے جب کہ ایرانی بحریہ کے 6 اہلکاروں نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے امریکی حملوں میں مجموعی طور پر 21 افراد جان سے گئے اور 150 کے قریب زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں فوجی اہلکار بھی شامل ہیں تاہم ان کی الگ سے تعداد نہیں بتائی گئی۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے ان تازہ حملوں میں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہےجس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ میں فی الحال ایرانی بحریہ کے 6 اور فضائیہ کے 3 پائلٹس کے نام، رینک اور مقام شہادت کی مکمل تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔اس سے قبل ایرانی میڈیا نے آبنائے ہرمز کے قریب لارک جزیرے پر امریکی حملے میں ایرانی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔تسنیم کی حالیہ رپورٹس میں لارک پر مارے جانے والے تین اہلکاروں کی نماز جنازہ اور تدفین کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ادھر ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا کہ امریکی حملوں میں جاں بحق ہونے والے ایران کے فوجی اہلکاروں کی اصل تعداد اس ے کہیں زیادہ ہے۔ اے پی سے بات کرتے ہوئے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایرانی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا کے تازہ حملوں میں ایران کے 14 فوجی اور نیم فوجی اہلکار شہید ہوگئے ہیں جبکہ 108 افراد زخمی ہیں۔تازہ ترین حملوں میں سب سے زیادہ توجہ جنوبی ایران کے علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر مبینہ امریکی میزائل حملے نے حاصل کی۔ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اے پی کو ذرائع نے ابتدا میں 4 افراد کی شہادت اور 60 سے زائد زخمیوں کی اطلاع دی تھی۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکی کارروائیوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں، فضائی دفاع، ریڈار اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی مبینہ تیاریوں کو نشانہ بنانا تھا
