پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران کی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے خلیج فارس میں امریکی فوج کی موجودگی کے دور کا خاتمہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی ایک امریکی فوجی کو ہلاک یا گرفتار کرے گا اس کو 30 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے حوالے سے قومی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے عوامی چندہ مہم کے ذریعے نیا اقدام متعارف کرایا، جس میں ایرانی شہری دفاعی کارروائیوں کے لیے مسلح افواج سے تعاون کے لیے عطیات دیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت جو کوئی بھی ایک امریکی فوجی کو قتل کرے یا گرفتار کرکے حکام کے حوالے کرے گا ان کو انعام کے طور پر 30 ہزار ڈالر (5 ارب تومان) دیا جائے گا۔ایرانی آرمی چیف امیر حاتمی نے کہا کہ بہادر ایرانی خواتین میں سے کوئی یہ اقدام کرے تو ان کو اس رقم کا دوگنا انعام ملے گا اور اس کے لیے استعمال ہونے والا اسلحہ فوج کی جانب سے مارکیٹ کے مقابلے میں دوگنا زیادہ قیمت میں خریدا جائے گا اور میوزیم میں مستقل طور پر آویزاں کیا جائے گا۔جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ مقدس آبنائے ہرمز ایرانی عوام کے لیے ایک خداداد جغرافیائی و سیاسی اثاثہ ہے. یہ تزویراتی برتری اب کبھی بھی پرانی پوزیشن پر واپس نہیں جائے گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے کارناموں میں سے ایک آبنائے ہرمز کی پوشیدہ صلاحیتوں کو متحرک کرنا ہے، ہم اس صلاحیت سے بخوبی آگاہ تھے. لیکن یہ جنگ نہ ہوتی تو یہ اس کی افادیت اس طرح سامنے نہ آتی۔ایرانی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ یہ برتری جنگ کو اس انداز میں ختم کرنے کے لیے بنیادی شرائط میں سے ایک ہے، جس سے ایران پر منڈلاتا ہوا جنگ کا خطرہ ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گا اور امریکہ کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کو خلیجِ فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہیں ہے. ہر ایک کو یہ جان لینا چاہیے کہ امریکی فوجی اڈے اب کبھی اپنی پرانی حالت میں بحال نہیں ہو سکیں گے اور ایران اس کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔
