پاکستان نیوز پوائنٹ
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایران بھی مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ اگر مصر اور الجزائر مکہ معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ بھی مثبت پیشرفت ہوگی اور یہ روس کی جانب سے پیش کیے گئے تصور کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق بہت اچھا عملی قدم ہوگا۔انہوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایران بھی بلٓاخر مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔واضح رہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ گزشتہ ماہ کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت ایک ملک پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گاروسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (MGIMO) میں طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے خلیج میں سکیورٹی تعاون کے حوالے سے ماسکو کے دیرینہ مؤقف کی وضاحت کی۔انہوں نے یاد دلایا کہ روس نے دو دہائیاں قبل ہی تجویز دی تھی کہ خلیجی ممالک، جن میں عرب ممالک اور ایران شامل ہیں، علاقائی سکیورٹی کا ایک تصور وضع کرنے کے لیے اجلاس منعقد کرنے پر غور کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ان ممالک کے درمیان تعلقات پیچیدہ ہیں، اس مفروضے کے تحت آگے بڑھے کہ ہم ملاقاتوں کے انعقاد، باہمی شکایات پر بات چیت اور اعتماد سازی کے بعض اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں سہولت فراہم کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ اگر عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان بیک وقت شامل ہوں تو ان مذاکرات کا انعقاد نسبتاً آسان ہوگا، فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد خطے کی صورتحال تبدیل ہوگئی۔انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کا بھی حوالہ دیا، جو چین کی ایک پہل کے نتیجے میں ممکن ہوئے تھے، جبکہ ان کے بقول ماسکو نے بھی اس عمل کی فعال حوصلہ افزائی کی تھی۔مکہ معاہدے کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے امکان پر بات کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ اس کے حامیوں نے عندیہ دیا ہے کہ خلیج سے باہر کے ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کا راستہ کھلا رکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصر کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے، مجھے یقین ہے کہ اگر الجزائر بھی اس میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو کسی مرحلے پر اس کا بھی مثبت اثر ہوگا، ایسے کسی ڈھانچے میں ایران کی شرکت کی شرائط پر اتفاق کرنا ماسکو کی جانب سے اصل میں تجویز کردہ سکیورٹی ماڈل کی جانب پیش رفت کے لیے سب سے زیادہ عملی قدم ثابت ہوسکتا ہے۔روسی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ماسکو ایسے کسی بھی علاقائی سکیورٹی انتظام میں قائدانہ کردار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث خطے میں استحکام متاثر ہونے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں خلل پڑنے کے بعد علاقائی طاقتیں سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ترکیہ کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج ہے، جبکہ سعودی عرب خلیج کی ایک اہم طاقت اور تیل برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔ پاکستان واحد جوہری ہتھیار رکھنے والا مسلم ملک ہے9 اگست کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ مکہ معاہدہ ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کے لیے تیار ہوں، اور اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد باہمی احترام، تعاون اور پُرامن ذرائع کے ذریعے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔
