پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائط کو مسترد کردیا اور کہا کہ جہازوں کو ایران کی اجازت اور پیسوں کی وصولی قبول نہیں۔ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں آبنائے ہرمز کو اکنامک نیوکلیئر ہتھیار قرار دیا اور کہا کہ امریکا بھتہ خوری کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہاکہ ایران کو کسی قیمت پر نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، ڈیل نہیں بھی ہوئی تو ایران پر دباؤ برقرار رکھیں گے۔ مارکو روبیو نےایرانی مذاکرات کو سنجیدہ قراردہتےہوئےکہاکہ سخت گیر عناصر ڈیل کی راہ میں رکاوٹ ہیں ،ایران میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ملک اور معیشت کو چلانا چاہتےہیں دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے ایرانی تجاویز کو یکسر مسترد نہیں کیا، صدر ٹرمپ نے ایران کی نیت پر شکوک کا اظہار کیا، امریکی صدر نیوکلیئرمعاملہ شامل نہ کرنے پر ناخوش ہیں، ایران کی تجویز پر مشاورت جاری ہے۔ یاد رہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو نئی تجاویز پیش کردی ہیں، ان تجاویز میں پہلے جنگ بندی اور پھر مستقل جنگ بندی کی ضمانت شامل ہے۔ ایران نے آبنائے ہُرمز کھولنے کی پیشکش امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کے ساتھ مشروط کی ہے اور کہا ہےکہ یہ سب ہوجائے تو پھر ایرانی ایٹمی پروگرام پر بات ہوگی تاہم امریکا کو پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا ایرانی حق تسلیم کرنا ہوگا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ چھوڑے تو مل بیٹھنے کا فائدہ نہیں، ایران چاہے تو فون کرلے، ہماری فون لائنز بہت محفوظ ہیں۔ سی این این کے مطابق فائنل ڈیل کےلئے پس پردہ سرگرم سفارتی کوششیں جاری ہیں، سفارتی کوششوں میں مرحلہ وار آگے بڑھنے کی حکمت عملی شامل ہے۔
