پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران اور اسرائیل دونوں کا حلیف سمجھا جانے والا روس بھی، ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں شامل ہو گیا ہے۔کرملن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے جمعے کے روز صحافیوں کو بتایا کہ صدر ولادی میر پوتین نے آج اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک رابطہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی صدر نے پوتین کو ملک کے اندر صورت حال کو سنبھالنے اور اسے حل کرنے کے لیے ایرانی قیادت کی جانب سے کی جانے والی سنجیدہ کوششوں سے آگاہ کیا۔کرملن کے مطابق اس موقع پر زور دیا گیا کہ روس اور ایران دونوں اس بات کے حامی ہیں کہ ایران اور مجموعی طور پر پورے خطے میں جلد از جلد کشیدگی میں کمی لائی جائے، تاکہ پیدا ہونے والے مسائل کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے نکالا جا سکے۔پیسکوف نے یہ بھی بتایا کہ پوتین نے نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ روس بطور ثالثی اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو جلد ہی ایرانی صدر سے ہونے والی فون کال کے نتائج کا اعلان کرے گا۔ ان کے مطابق روسی صدر کشیدگی کم کرنے کی حوصلہ افزائی کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔روس کے علاوہ ترکیہ، قطر، سلطنت عمان اور مصر سمیت دیگر ممالک نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ یہ تنا حالیہ دنوں میں اس وقت بڑھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ دیا اور کہا کہ وہ ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے یہ قدم اٹھا سکتے ہیں۔بعد ازاں ان سخت بیانات کی شدت میں کچھ کمی آئی، جب ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ایران میں مظاہرین کے قتل میں کمی آئی ہے۔ادھر با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ خطے میں متعدد بین الاقوامی فریق کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جنگ کے بھڑکنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، خصوصا اس تناظر میں کہ ایران نے حملے کی صورت میں جواب دینے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
