پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کے ساتھ ساتھ لبنان کا تحفظ بھی ممکن ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی نے پورے معاملات میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کافی اہم معاملات میں نمایاں اور مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ تکینیکی ٹیمیں مخلتف امور پر کام کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے ساتھ ایک کامیاب معاہدے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کیلئے بنیادی طریقہ کار طے کرلیا گیا ہے جو آئندہ ہفتوں تک جاری رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے ساتھ ایک کامیاب معاہدے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کیلئے بنیادی طریقہ کار طے کرلیا گیا ہے جو آئندہ ہفتوں تک جاری رہیں گے۔ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کے حوالے سے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیان محض ایرانی میڈٰیا پر دھمکیوں کا ردعمل تھے۔ ہم پورے خطے میں جنگ بندی کے خواہشمند ہیں۔انہوں نے کہا کہ تنازع اب جنگ بندی کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، ہمیں حتمی معاہدے تک پہنچنے کی امید ہے جبکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 24 گھنٹے بہت اچھے رہے ہیں. لبنان میں امن رہا ہے جبکہ آبنائے ہرمز بھی کھلی رہی، اتوار کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا، مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے واک آوٹ کی دھمکی دی تھی. لیکن اس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے تک بات چیت جاری رہی.ہم چاہتے ہیں کہ ہم حتمی معاہدے تک پہنچیں اور اس معاملے کا مستقل حل ہو۔جے ڈی وینس نے کہا کہ عالمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز ایران جائیں گے اور اس بات کی نگرانی کریں گے کہ آیا ایران ابتدائی معاہدے پر عمل کر رہا ہے یا نہیں، میں نے رات دو بجے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو ٹیلی فون کیا لیکن آپ سمجھ سکتے ہیں کہ رات دو بجے بہت کم لوگ فون اُٹھاتے ہیں، اس ہفتے انسپکٹرز ایران جا سکتے ہیں اور اس حوالے سے ہم آج اُن سے بات کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے لائحہ عمل کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کردی گئی ہے۔ تاہم لبنان کے معاملے پر ابھی کام جاری ہے۔ کل اسرائیلی حکام کے ساتھ مسلسل رابطوں میں رہے ہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کے ساتھ لبنان کا بھی تحفظ ممکن ہے۔
