ایران کے 131 شہروں پر حملے 500 سے زائد شہری شہید جوہری تنصیبات بھی نشانہ بنیں

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے 131 شہروں پر حملے کئے گئے ہیں، جن میں 500 سے زائد ایرانی شہری شہید ہوئے ہیں۔ حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات بھی نشانہ بنی ہیں۔ایران پر کیے گئے حملوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے سفیر نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی میں الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے. جس کے بعد صورتحال پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا۔ایرانی سفیر نے آئی اے ای اے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز نطنز نیو کلیئر سائٹ سمیت دیگر جوہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ وسطی و مغربی ایران کے شہر خرم آباد پر بھی حملہ کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق حملوں سے ایران کے 131 شہر متاثر ہوئے جبکہ اب تک 550 سے زائد ایرانی شہری جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی صوبہ فارس میں حملوں کے نتیجے میں 35 افراد کی ہلاکت کی بھی خبر ہے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی خوش فہمی نے پورے خطے کو غیر ضروری جنگ میں دھکیل دیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرمپ امریکی افواج کے جانی نقصان پر فکرمند ہیں اور امریکی وسائل اسرائیلی قیادت کے مفاد میں استعمال ہو رہے ہیں۔ادھر چینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایک چینی شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔عالمی برادری کی نظریں اب آئی اے ای اے کے اجلاس پر مرکوز ہیں جہاں جوہری سلامتی اور خطے کی بگڑتی صورتحال پر آئندہ کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ کویت اوربحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اب تک مارے گئے امریکی فوجیوں کی تعداد 560 ہوگئی ہے۔ایرانی فوج نے دعویٰ کیاکہ امریکا کے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو 4 میزائلوں سے ہدف بنایا گیا۔اس کے علاوہ روسی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا کہ بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 560 امریکی فوجی مارے گئے۔ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں اعلان کیا ہے کہ ایران امریکا کےساتھ مذاکرات نہیں کرےگا۔ایک اور بیان میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کےخود ساختہ خیالات نے مشرق وسطیٰ کو افراتفری میں دھکیل دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *