پاکستان نیوز پوائنٹ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر عالمی طاقتوں نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے، جہاں G7 ممالک نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ایران سے بلا تاخیر اور بغیر کسی شرط کے تمام حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہےمیڈیا رپورٹس کے مطابق مشترکہ بیان میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ نے ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بلاجواز قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے علاقائی اتحادیوں کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ شہری آبادی اور توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے، جس کے اثرات عالمی سطح تک پھیل سکتے ہیں۔مزید کہا گیا کہ عالمی توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔دوسری جانب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں خلیجی ممالک، توانائی تنصیبات اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تیل کی ترسیل متاثر ہو کر معطل ہو گئی اور عالمی منڈی میں بے چینی بڑھ گئی۔علاوہ ازیں ایران کی جانب سے میزائل حملے میں دیمونا کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 51 افراد زخمی ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دیمونا میں جوہری تنصیبات موجود ہیں، تاہم اب تک ان تنصیبات کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
