پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی حکومت اور عسکری قیادت نے خیبر پختونخوا کی انتظامیہ کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا تین گھنٹے طویل اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا. جس میں فیلڈ مارشل، عسکری قیادت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں مسلح افواج، پولیس اور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا گیا اور صوبائی انتظامیہ کو اس جنگ میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور پولیس و انسداد دہشت گردی محکمے (سی ٹی ڈی) کو درکار تمام وسائل و سہولیات فراہم کی جائیں گی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم کو خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ہنگامی صورت حال کے نفاذ اور سیکیورٹی انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام امن چاہتے ہیں اور پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاق کا تعاون ناگزیر ہے کیونکہ تمام ادارے ایک صفحے پر ہوں تو ہی امن و ترقی ممکن ہے۔اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس، کور کمانڈر پشاور اور وفاقی وزرا سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجبوری کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی اور وہ اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید غمزدہ ہیں، جس کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کر دی گئی ہے۔انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2018 تک سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں سے صوبے میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا. تاہم پچھلے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کو مبینہ طور پر دوبارہ لایا گیا .جس سے تمام قربانیوں پر پانی پھر گیا اور عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کی 5 ہزار آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کیں اور سیف سٹی منصوبہ اب بھی نامکمل ہے، جبکہ وفاق کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے کے فنڈز دیے گئے تھے۔وزیراعظم نے صوبے میں کرپشن کے مبینہ اسکینڈلز کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پینے کے صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے اور کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے کی کرپشن سامنے آئی ہے، جبکہ پلیسر گولڈ منصوبے کے ٹھیکے بھی من پسند افراد کو دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے متعلق فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق کیا گیا ہے اور اس پر اتحادی جماعتوں، صدر آصف زرداری اور قائد محمد نواز شریف کے مشکور ہیں۔وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے تعاون سے صوبے کے مسائل حل کرے گی اور خیبر پختونخوا میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور واپس لایا جائے گا۔
