ریاض ایئرپورٹ آرامکو ریفائنری پر حملے سعودی اتحاد کا جوابی وار حوثی اہداف تباہ کر دیئے

پاکستان نیوز پوائنٹ
یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سعودی آرامکو کی ریفائنری اور جنوبی سعودی عرب کے دیگر اہداف کو نشانہ بنایا دوسری طرف سعودی قیادت میں سعودی اتحاد نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر حدیدہ میں حوثیوں کے ہتھیاروں کے گودام، بارودی کشتیوں کی تنصیبات اور بحری بارودی سرنگوں کے ذخائر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یمنی فوج نے حوثیوں کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے صنعاء کی جانب پیش قدمی کا اعلان کیا ہے، جبکہ سعودی اتحاد کے مطابق تقریباً 100 جنگی طیاروں نے کارروائیوں میں حصہ لیا،ادھر پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کی مدد کے لیے فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں تعینات کرنے پر اتفاق کیا ہے، تینوں ممالک کے ہنگامی اجلاس میں فوجی دستوں کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا، تاہم ان فوجیوں کے مخصوص کردار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ حوثی حملوں سے سعودی عرب کا تیل کا بنیادی ڈھانچہ بھی متاثر ہوا ہے، سعودی آرامکو کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث عالمی تیل کے ذخائر انتہائی کم ہو چکے ہیں اور عالمی توانائی کا نظام شدید دباؤ میں ہے،دوسری جانب یمنی حکومتی فورسز نے شدید لڑائی کے بعد بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ موخا پر دوبارہ قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ جھڑپوں کے باعث ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کو بھی خطرات لاحق ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *