سپرٹیکس کا نفازسوال صرف یہ ہے کہ یہ ٹیکس 2022پرلاگوہوگاکہ نہیں ؟

پاکستان نیوز پوائنٹ
سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ میں سُپرٹیکس نفاذکے معاملہ پرلاہور، سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی جانب سے دائردراپیلوں کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر ماضی سے ٹیکس کے نفاذ کی اجازت دیں گے توپھر پارلیمنٹ کواجازت مل جائے گی اور وہ 8،10سال پیچھے بھی چلی جائے گی۔ سوال صرف یہ ہے کہ یہ ٹیکس 2022پرلاگوہوگاکہ نہیں۔جبکہ جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیئے ہیں کہ کمپنیوں پر بے شک 20فیصد ٹیکس لگادیں وہ ہم پر ہی ڈالیں گی، کمپنیاں عام عوام سے ہی ٹیکس کی رقم وصول کریںگی ، کولڈ ڈرنکس وکیل کے لئے بھی مہنگی ہوںگی۔ کیوں مخصوص شعبوں کے لئے ٹیکس کی شرح بڑھارہے ہیں اس حوالہ سے بجٹ تقریر میں بتاناچاہیئے تھا۔جبکہ جسٹس سید حسن اظہررضوی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ 2022حکومت کی تبدیلی کاسال ہے، کھاد، اسٹیل اور آئل ریفائننگ عام آدمی کے استعمال کی چیزیں ہیں، اُس وقت آدھی اسمبلی نہیں تھی، اپوزیشن توموجود نہیں تھی۔ یہ ساری چیزیں مہنگائی بڑھانے کی ہیں۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہررضوی اورجسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 5رکنی آئینی بینچ نے سُپرٹیکس کے نفاذ کے معاملہ پر ایف بی آر کی جانب سے دائر 2044درخواستوں پر سماعت کی۔ایف بی آر کی وکیل اسما حامد نے منگل کے روز اپنے دلائل کاسلسلہ جاری رکھا۔اسما حامد آج (بدھ)کے روز بھی اپنے دلائل کاسلسلہ جاری رکھیں گی۔ سماعت کے آغاز پر مدعاعلیہان کے وکیل سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے روسٹرم پرآکر ججز سے استفساکیا کہ بینچ روزانہ پورادن کیس کی سماعت کرے گااورکیا جمعہ کوبھی کیس کی سماعت ہوگی۔اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کاکہنا تھا کہ بینچ روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرجلد فیصلہ کرے گااورجمعہ کے روز بھی کیس کی سماعت ہوگی۔ جسٹس امین الدین خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامررحمان کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیااٹارنی جنرل آفس نے کوئی جواب جمع کروایاہے۔ اس پر چوہدری عامررحمان کاکہنا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے دوران تحریری جواب جمع کروادیں گے۔ اسماحامد کاکہنا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے سیکشن 4-Cکے تحت سُپرٹیکس کانفاذ کیاگیا۔ اسماحامد کاکہنا تھا کہ میں1917سے2025تک پارلیمان کی جانب سے سُپرٹیکس کے نفاذ کی تاریخ کے حوالہ سے بینچ کوآگاہ کروں گی۔ جسٹس محمد علی مظہرکاکہنا تھا کہ پہلے سیکشن 4-Cپڑھیں پھر آگے چلیں گے۔ اسماحامد کاکہنا تھا کہ سُپرٹیکس 2022سے نافذ کیا گیا۔ جسٹس امین الدین خان کاکہنا تھا کہ قانون پر عملدرآمد والے حصہ کوکسی نے چیلنج نہیں کیا۔ اسما حامد کاکہنا تھا کہ 30کروڑ آمدن والی بینکنگ کمپنیوں پر 10فیصد سُپرٹیکس نافذ کیا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہرکاکہنا تھا کہ کیاٹیکس لیوی ختم کردی ہے۔ اسما حامد کاکہنا تھا کہ 2023کاٹیکس ابھی تک نافذ العمل ہے۔ جسٹس محمد علی مظہرکاکہنا تھا کہ 2022کے لئے بینکنگ کمپنیوں کو استثنیٰ دینے کی کیاوجہ تھی۔ اسما حامد کاکہنا تھا کہ سیکشن 4-Bبینکنگ کمپنیوں کے لئے 2022میں نافذالعمل تھا، 4-Bمیں 50کروڑ آمدنی والی کمپنیوں پر ٹیکس کانفاذ کیا گیا تھا۔ جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ میں 30ستمبر2022کوٹیکس گوشوارے جمع کروائوں گا، کیا مجھ پر یہ ٹیکس 2022کے لئے لاگوہوگایا2023کے لئے لاگوہوگا۔ جسٹس امین الدین خان کاکہنا تھا کہ 30جون2021سے31جولائی2022تک کاٹیکس دینا ہے۔ اسما حامد کاکہنا تھا کہ قانون ساز ماضی سے ٹیکس کانفاذ کرسکتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ کیاسپریم کورٹ کے ٹیکس کے سال کاعرصہ متعین کرنے ، ماضی یا مستقبل میں قانون کے اطلاق کے حوالہ سے کوئی فیصلے ہیں تواُن کی کاپیاں فراہم کردیں۔ اسماحامد کاکہنا تھا کہ یہ ٹیکس سال یکم جولائی سے 2025سے30جون2026تک ہوگااوریہ2026کاٹیکس کاسال شمارہوگا۔ اسما حامد کاکہنا تھا کہ قانون یکم جولائی2022کوآیا اوراس کااطلاق گزشتہ مالی سال سے کیا گیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ اگر ماضی سے ٹیکس کے نفاذ کی اجازت دیں گے توپھر پارلیمنٹ کواجازت مل جائے گی اور وہ 8،10سال پیچھے بھی چلی جائے گی۔ جسٹس محمد علی مظہرکاکہنا تھا کہ اگرکوئی ٹیکس ادانہیں کرتا اور اس حوالہ سے ایف بی آر کوپتا چلتا ہے توپھر اُس کمپنی کے گزشتہ پانچ سال کے حسابات کاآڈٹ ہوسکتا ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ سوال صرف یہ ہے کہ یہ ٹیکس 2022پرلاگوہوگاکہ نہیں۔ جسٹس سید حسن اظہررضوی کاکہناتھا کہ بینکنگ کمپنیاں توماہانہ، سہہ ماہی اور ششماہی بنیادوں پر منافع دیتی ہیں وہ ٹرانزیکشن کلوز کرچکی ہوتی ہیں، ماضی کی بند شدہ ٹرانزیکشن کی بات ہورہی ہے، بینک بُک میں توظاہر کریں گے کہ ٹیکس کاٹ لیا گیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ اگرپہلے ہی سپریم کورٹ ٹیکس کی شرح 10فیصد سے کم کرکے 4فیصد کرچکی ہوتی توپھر ہم یہ کیس کیوں سُن رہے ہوتے۔ جسٹس جمال مندوخیل کااسماحامد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لگتا ہے آپ نے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔ اس پر اسما حامد کاکہنا تھا کہ میں نے 5نکات پر دلائل دینا ہیں اورابھی ایک نکتہ پر دلائل مکمل کئے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ کمپنیوں پر بے شک 20فیصد ٹیکس لگادیں وہ ہم پر ہی ڈالیں گی، کمپنیاں عام عوام سے ہی ٹیکس کی رقم وصول کریںگی، کولڈ ڈرنکس وکیل کے لئے بھی مہنگی ہوںگی۔ اسماحامد کاکہنا تھا کہ پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی 1500امریکی ڈالر ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ کیوں مخصوص شعبوں کے لئے ٹیکس کی شرح بڑھارہے ہیں اس حوالہ سے بجٹ تقریر میں بتاناچاہیئے تھا۔ اسماحامد کاکہنا تھا کہ 2021کے مقابلہ میں مخصوص صنعتوں کے منافع میں 2000،200،400اور800گنااضافہ ہوا۔ جسٹس سید حسن اظہررضوی کاکہنا تھا کہ 2022حکومت کی تبدیلی کاسال ہے، کھاد، اسٹیل اور آئل ریفائننگ عام آدمی کے استعمال کی چیزیں ہیں، اُس وقت آدھی اسمبلی نہیں تھی، اپوزیشن توموجود نہیں تھی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاسرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کو بہت سی چیزوں کاسامنا کرنا پڑے گا۔ جسٹس سید حسن اظہررضوی کاکہنا تھا کہ یہ ساری چیزیں مہنگائی بڑھانے کی ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر کاایف بی آر وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر لے کرآئیں۔ سماعت کے اختتام پرمخدوم علی خان نے روسٹرم پرآکر کہا کہ مجھے ددخواست گزار کی جانب سے پیپر بک نہیں ملی ۔اس پر جسٹس محمد علی مظہرکااسماحامدسے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اضافی پیپربک ہے تومخدوم علی خان کودے دیں۔ بعدازاں بینچ نے کیس کی مزید سماعت آج (بدھ)صبح ساڑھے 9بجے تک ملتوی کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *