پاکستان نیوز پوائنٹ
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے بینچ اور بار کے درمیان مضبوط شراکت داری کو موثر اور جوابدہ نظامِ انصاف کی بنیاد قرار دیتے ہوئے قانونی پیشے میں محنت اور لگن کی ضرورت پر زور دیا ہے اور تمام شراکت دار وں سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو بروقت اورموثر انصاف کی فراہمی کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد ، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ روزی خان بڑیچ اورہائی کورٹ کے ججز نے سپریم کورٹ برانچ رجسٹری کوئٹہ میں سپریم کورٹ بار ،ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے اشتراک سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر قانونی برادری کے مختلف طبقات شریک ہوئے جن میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرمیاں محمد روف عطا ایڈووکیٹ، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عطا اللہ لانگو اور کوئٹہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاری رحمت اللہ کے علاوہ مختلف وکلا تنظیموں کے نمائندگان اور سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے اراکین شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بینچ اور بار کے درمیان مضبوط شراکت داری کو مئوثر اور جوابدہ نظامِ انصاف کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کوئٹہ اور اس کی قانونی برادری سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے پر دلی خوشی کا اظہار کیا اور روایتی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے کوئٹہ کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا۔اپنی گفتگو کے دوران چیف جسٹس نے وکلا سے براہِ راست ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ان کے پیشے سے متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ایک اہم اعلان میں انہوں نے بتایا کہ خواتین وکلا کے دو بیچز، ہر ایک میں 30 وکلا، ایک کوئٹہ سے اور دوسرا مکران سے، کو وفاقی عدلیہ اکیڈمی اسلام آباد میں خصوصی تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے قانونی پیشے میں محنت اور لگن کی ضرورت پر زور دیا اور تمام شراکت داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو بروقت اورمئوثر انصاف کی فراہمی کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔اس کے علاوہ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ برانچ رجسٹری کوئٹہ میں وکلا کے لیے سہولیات بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں بار روم کے لیے جگہ کی فراہمی اور قانونی برادری اور سائلین کی بہتر خدمت کے لیے ایک سہولت مرکز کا قیام شامل ہے۔جبکہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے برانچ رجسٹری میں بار کونسلز کی نمائندہ کمیٹی کے ساتھ اجلاس بھی منعقد کیا۔ اس اجلاس میں خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چیئرمین احمد فاروق خٹک، بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین راحب خان بولیدی اور چیئرمین لیگل ایجوکیشن کمیٹی قاسم علی گوجیزئی شریک ہوئے۔کمیٹی نے نئے داخل شدہ وکلا کے لیے لازمی تربیت کے نفاذ میں بار کونسلز کو درپیش مالی مشکلات سے آگاہ کیا، جو کہ سپریم کورٹ پاکستان کے ایک فیصلے کے تحت ضروری ہے۔اس مسئلے کے حل کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی جوڈیشل اکیڈمیز کے ڈائریکٹر جنرلز سے ملاقات کرے گی تاکہ مالی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے وکلا کے لیے 15 دن کا مثر تربیتی پروگرام ترتیب دیا جا سکے۔ پاکستان بار کونسل اسلام آباد کے ڈائریکٹر لیگل ایجوکیشن بھی اس میں شریک ہوں گے تاکہ مثر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ دن عدلیہ اور بار کی قانونی تعلیم کو مضبوط بنانے اور عوام کے لیے انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے کے عزم کی مشترکہ توثیق کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
