پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، کیونکہ ملکی اورعالمی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت نے صوبوں سے مشاورت کی۔انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی، تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا دفاع کیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ بعد ازاں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں اور اتحادی سیاسی جماعتوں نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مسئلے کا حل نکالا۔ مشکل وقت میں ملک کی خاطر صوبوں نے وفاق کو سپورٹ کیا sot مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ کی محصولات میں رواں سال 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مختلف ترقیاتی اورفلاحی منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کی گئی، جبکہ عوام کو ٹرانسپورٹ، ایندھن اور بجلی کے شعبوں میں ریلیف فراہم کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کسانوں کو سپورٹ کیا تو گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کو تھوڑی سی سپورٹ ملی تو انہوں نے گندم کی ریکارڈ کاشت کی۔ملازمین کی مالی مشکلات میں کمی لانے کے لیے کم از کم آمدن بھی 43 ہزارروپے ہوگی۔مراد علی شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوامی خدمات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
