پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیرِ اعظم کو ایف بی آر اور انٹیلیجینس بیورو کی جانب ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف آپریشنز پر رپورٹ پیش کی گئی، جس کے مطابق انٹیلی جنس بیورو اور ایف بی آر کی مشترکہ کوششوں سے 178 ارب روپے کی ریکوری ممکن ہوئی. ان اقدامات سے کمپنیوں کے انضمام اور ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں بقایا جات کی مد میں ٹیکس آمدن میں 69 ارب روپے کا اضافہ ہوا. وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایف بی آر اور انٹیلیجنس بیوریو کی ٹیکس وصولیوں میں اضافے کیلئے اقدامات کی پزیرائی کی، کہا کہ پاکستان کا معاشی استحکام ٹیم کی مشترکہ کوششوں کی بدولت ممکن ہوا. انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے بھی سب کو مل کر کام کرنا ہے.
رپورٹ میں کہا گیا کہ اٹیلی جینس بیورو کی جانب سے چینی، جانوروں کی خوراک، مشروبات، خوردنی تیل، تمباکو اور سیمنٹ کے شعبے میں 515 چھاپے مارے گئے. ان کاروائیوں کے نتیجے میں ٹیکس چوری کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے 10.5 ارب روپے کا اضافی ٹیکس وصول کیا گیا. اس کے علاوہ انٹیلی جینس بیورو نے ذخیرہ اندوزی اور اشیاء کی قیمتوں میں مصنوعی طور پر اضافے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے چینی، کھاد اور گندم کے شعبوں میں 13 ہزار سے زائد آپریشن کئے اور اپریل 2022 سے اب تک 99 ارب سے زائد کی غیر قانونی طور پر ذخیرہ شدہ اشیاء قبضے میں لیں.
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی ٹیکس آمدن میں اضافے کیلئے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا
