کینیڈا امریکا کا حصہ بنے بغیر ریاست جیسے فوائد چاہتا ہے ایسا نہیں چلے گا صدر ٹرمپ

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کی ریاست نہیں ہے مگر ریاست جیسے فوائد چاہتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارت کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات کی ناکامی پر دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیرف (محصولات) عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں لکھا کہ ’کینیڈا ریاست بنے بغیر ریاست جیسے فوائد چاہتا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا نے کئی برس تک امریکی کسانوں پر بھاری ٹیرف عائد کیے، جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے بعد کئی مرتبہ کینیڈا کو امریکا کی ’51ویں ریاست‘ بنانے کی بات کر چکے ہیں، جس پر کینیڈا کے رہنماؤں اور عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔واضح رہے کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان جمعے کو واشنگٹن میں ہونے والے تجارتی مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے تھے جس نے دونوں ملکوں کے درمیان انتہائی گہرے تجارتی تعلقات کو متاثر کیا ہے۔مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا میں کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد درآمدی محصولات یعنی دوسرے ممالک سے آنے والی اشیاء پر عائد ٹیکس نافذ ہوگئے ہیں۔نئے ٹیرف عائد ہونے کے بعد کینیڈا کو امریکا کو برآمد کی جانے والی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء متاثر ہوں گی جس میں ہاکی اسٹکس سے لے کر سیمنٹ اور کئی مختلف مصنوعات شامل ہیں۔کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکا کے نئے محصولات کو ’غلط اندازہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد کینیڈا کو نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا ہے۔انہوں نے امریکی ٹیرف کو کینیڈا پر حملہ قرار دیا اور جواب میں امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ہفتے کے روز خطاب میں کہا کہ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی محصولات کا جواب ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ سے دے گا۔ میں اسٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو آلات اور الیکٹرانکس سمیت مختلف امریکی مصنوعات پر محصولات عائد کیے جائیں گے۔مارک کارنی نے کہا کہ ’امریکا نے ہم سے بہت زیادہ مانگا اور بہت کم پیش کیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ امریکی شرائط میں کینیڈا کے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے نہ کرنے کی شرط بھی شامل تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب آپ پر حملہ کیا جائے تو آپ حالتِ جنگ میں ہوتے ہیں۔ ہم پر حملہ کیا گیا لہٰذا امریکا اور کینیڈا اب تجارتی جنگ میں ہیںدوسری جانب امریکی مذاکرات کاروں نے کینیڈا پر نئے مطالبات اور پہلے سے طے شدہ شرائط سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ہفتے کو فاکس نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکا کینیڈا پر عائد بعض محصولات میں کمی کے لیے تیار تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔کینیڈا کے مختلف صوبوں کی حکومت اور دیگر رہنماؤں نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کے اقدام کی حمایت کی ہے۔ وہیں امریکا کی بڑی کمپنیوں کے تقریباً 200 سربراہان پر مشتمل گروپ ’بزنس راؤنڈ ٹیبل‘ نے خبردار کیا ہے کہ نئے محصولات سے امریکی کاروباروں اور خاندانوں کے اخراجات بڑھنے کا خطرہ ہے۔ کورباری گروپ نے دونوں ممالک کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *