استنبول کچرے کے کنٹینر سے خاتون کی سراور ٹانگیں کٹی لاش برآمد خواتین تنطیموں کی احتجاج اور مظاہروں کی کال

پاکستان نیوز پوائنٹ
گزشتہ روز استنبول میں کچرے کے ایک کنٹینر سے سر کٹی اور ٹانگوں سے محروم ایک خاتون کی لاش ملنے کے بعد ترکی میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے احتجاجی مظاہروں کی اپیل کر دی ہے۔تنظیم” خواتین کے قتل کے خلاف نسائیت پسند ”نے اتوار کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ہم تاحال قتل ہونے والی خاتون کا نام نہیں جانتے، مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ یہ جرم مردانہ تشدد کا نتیجہ ہےاور عزم ظاہر کیا کہ ہم اپنے غصے کو سڑکوں پر لے کر آئیں گے تاکہ مزید کوئی جان ضائع نہ ہو۔ دوسری جانب قید میں موجود ضلع ششلی کے میئر رسول امراہ شاہین نے خبردار کیا کہ خواتین کے قتل ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سزاؤں سے بچ نکلنے، غفلت اور خاموشی کے باعث خواتین کے قتل ایک بڑھتے ہوئے قتلِ عام میں تبدیل ہو چکے ہیںاور مطالبہ کیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ خاتون کی لاش ایک چادر میں لپٹی ہوئی تھی اور ضلع ششلی میں ایک کچرے کے کنٹینر میں پھینکی گئی تھی۔ ترک خبر رساں ادارے دوغان (ڈی ایچ اے) کے مطابق یہ لاش گزشتہ شب ایک شخص نے اُس وقت دیکھی، جب وہ ری سائیکلنگ کے لیے قابلِ استعمال اشیا تلاش کر رہا تھا۔ تحقیقاتی حکام نے بعد ازاں مقتولہ کی شناخت کر لی جو 37 سالہ ازبک شہری تھی۔ تاہم ابتدا میں اس کا سر اور ٹانگیں برآمد نہیں ہو سکیں۔ بعد میں جب سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا تو اس میں دو افراد کو ایک سفری بیگ دوسرے کنٹینر میں پھینکتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس بیگ میں کیا موجود تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *