پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ امریکا سے کسی بھی سطح پر مذاکرات کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جانا چاہیے کہ ایران نے ہتھیار ڈال دیے ہیں یا وہ دباؤ کے سامنے جھک رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی صدر نے امریکا جنگ سے نقصانات کی بحالی سے متعلق ایک حالیہ اجلاس کے دوران کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے پوری مضبوطی سے اپنے مؤقف پر قائم ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کو کمزوری یا سرنڈر کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ایران اپنے عوام کے حقوق کے حصول اور ملکی مفادات کے دفاع کیلئے مکمل عزم اور وقار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور اس مقصد سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ان کا ملک تنازع یا جنگ کا خواہاں نہیں. بلکہ مسائل کے حل کے کیلئے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا ہے. تاہم اگر امریکا ایران پر اپنی شرائط مسلط کرنے یا اسے دبانے کی کوشش کرے گا تو اسے کامیابی نہیں ملے گی۔
