اردو نیوز اپڈیٹس

امن و امان کیلیے سہیل آفریدی سمیت جس کی ضرورت ہوئی حفاظتی تحویل میں لیں گے محسن نقوی

پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ امن و امان کیلیے سہیل آفریدی سمیت جس کی ضرورت ہوئی حفاظتی تحویل میں لیں گے، جو مطلوب ہوں گے انہیں حراست میں بھی لیا جائے گا، جتھے سے کہوں گا کہ منتشر ہو جائیں جو پکڑا گیا کارروائی ہوگی۔وفاقی وزرا کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے آسان نہیں تھا. ایک ماہ سے زائد کوشش کی کہ کسی طرح کے پی حکومت کو آن بورڈ لیں، ذاتی طور پر بھی صوبائی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہا، ہمارا مقصد صرف ان کو آن بورڈ لینا تھا، دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں ساتھ چاہتے تھے۔محسن نقوی نے کہا کہ لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان سے پہلے سب چل رہا تھا، وزیر اعظم شہباز شریف نے 17 ستمبر کو نیویارک جانا تھا، فیصلہ ہوا کہ وہ اپوزیشن لیڈرز سے ملیں گے، وزیر اعظم نے ان سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کرنی تھی، ہماری کوشش تھی کہ وزیر اعظم کے نیویارک جانے سے پہلے ملاقات ہو جائے، وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملاقات میں مذاکرات کیلیے کمیٹی بنائی۔وزیر داخلہ کے مطابق اسد قیصر نے کہا تھا کہ ’دہشتگردی کے خلاف ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور مل کر لڑائی لڑیں گے‘، ہم نے اسد قیصر کو کہا کہ اس معاملے پر کے پی حکومت کو اعتماد میں لے لیں، دوسرے دن مذاکرات میں تین مرتبہ ڈرافٹ فائنل ہوا جس کے بعد معلوم ہوا کہ ایک نیا ڈرافٹ آگیا ہے، کل رات 11:45 تک میرا پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ تھا، ان سے کہا کہ ڈرافٹ میں جو تبدیلی کروانی ہے بتا دیں .لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، پی ٹی آئی والوں کو کہا تھا کہ ابھی بھی موقع ہے کچھ کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی سائیڈ سے کوئی جواب نہیں آیا۔بار بار پی ٹی آئی کو کہا کہ ہمیں دھرنے سے کوئی مسئلہ نہیں شوق سے کریں، ہم صرف دہشتگردی کے خلاف انہیں آن بورڈ لینا چاہتے تھے. پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ دھرنا مؤخر کریں ہمارا نہیں۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کے پی کے 12 اضلاع ایسے ہیں جہاں حالات بہت خراب ہیں، صوبے میں الیکشن کمیشن کے سینئر افسر کی شہاد ہوئی، پی ٹی آئی کے ساتھ ایک پیج پر آنے کی بہت کوشش کی. سہیل آفریدی سے دہشتگردی کے معاملے پر متعدد ملاقاتیں ہوئیں، سہیل آفریدی سے کہا کہ پہلے 5 اضلاع سے شروع کرتے ہیں اگر پیسوں کی کمی ہے تو وہ بھی دینے کو تیار ہیں. مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے 12 اضلاع میں ایمرجنسی پر اتفاق کیا تھا۔سہیل آفریدی سے کافی ملاقاتیں ہوئیں اس پر سیاست نہیں کی۔ وفاق کی الگ اور صوبے کی الگ پالیسی ہو یہ نہیں چل سکتا۔ طالبان کے ساتھ ان کے رابطے ہیں۔ کسی صورت آپ دہشتگردی کے خلاف اکیلے نہیں لڑ سکتے۔ کے پی سے متعلق مشکل فیصلہ کیا گیا۔ صوبے میں ڈیڑھ سال میں 195 فیصد دہشتگردی بڑھنا چھوٹی بات نہیں۔ سہیل آفریدی سے کبھی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی فوکس دہشتگردی پر تھا۔ مذاکرات میں معاہدہ ہو جاتا تو یہ حالات نہ ہوتے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ان سے پوچھیں کہ کون لوگ تھے جو ہر چیز کو سبوتاژ کر رہے تھے. کے پی میں کوئی انتظامی یونٹس کی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے.کے پی میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی تعیناتی ساؤتھ پنجاب والا ماڈل ہوگا، صوبے میں امن و امان بحال کرنے کیلیے جو کرنا پڑا کریں گے۔محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات میں فرق پڑنا شروع ہوگیا ہے. کے پی میں جو بھی مالی ضرورت ہوگی اسے پورا کیا جائے گا۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ صدر نے منظوری دے دی

پاکستان نیوز پوائنٹ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر…

56 minutes ago

کے پی حکومت دہشتگردوں کیخلاف ایک لفظ نہیں بولتی پانی سر سے اوپر جا چکا اب یہ فیصلے کا وقت ہے وزیراعظم

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے دہشتگردی کے واقعات میں عام شہریوں…

58 minutes ago

دھرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ہمارا ایشو ہے محسن نقوی

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دھرنے سے ہمیں کوئی…

1 hour ago

وفاق نے کے پی میں انتظامی امور چلانے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کردی

پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی حکومت نے کے پی میں انتظامی امور چلانے کے لیے ایڈوائزری…

1 hour ago

کرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام 12 خوارج ہلاک ہوگئے آئی ایس پی آر

پاکستان نیوز پوائنٹ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے…

1 hour ago

امریکا میں فائرنگ کے دو ہولناک واقعات حاملہ خاتون بچوں سمیت 14 افراد ہلاک

پاکستان نیوز پوائنٹ امریکا کی دو ریاستوں جارجیا اور پنسلوانیا میں چند گھنٹوں کے دوران…

1 hour ago