پاکستان نیوز پوائنٹ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کوخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران اپنا تیل فروخت نہیں کرسکا تو خطے کا کوئی بھی ملک تیل فروخت نہیں کرسکے گا، جبکہ ایران کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو خطے میں کسی بھی ملک کا بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔پارلیمان کے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی عوام کو محاصرے اور دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ جس قوم کی تاریخ مضبوط اور درخشاں ہو، اسے دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اگر امریکا اس بنیادی حقیقت کو نہیں سمجھتا تو اسے ایرانی قوم کی جانب سے بار بار سخت جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔باقر قالیباف نے امریکی صدر کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ایران اور اس کی تہذیب سے متعلق دیے گئے بیانات پر بھی ردعمل دیا۔انہوں نے کہا کہ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی، جبکہ ان کا جواب دینے کے لیے ایران تیار ہے۔انہوں نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور دیگر تمام ممالک یہ بات جان لیں کہ اگر ایران اس خطے میں اپنا تیل فروخت نہیں کرسکا تو کسی اور کا تیل بھی فروخت نہیں ہوگا۔قالیباف نے مزید کہا کہ اگر ایران کی سلامتی محفوظ نہیں رہی تو کسی بھی ملک کا بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔ایرانی اسپیکر نے اپنے خطاب کے دوران آٹھ سالہ جنگ، 12 روزہ جنگ اور 40 روزہ جنگ کے شہدا کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ہفتہ ایران میں ایثار، استقامت اور خدمت کی اعلیٰ مثالوں کو یاد کرنے کا موقع ہے۔انہوں نے آپریشن ثامن الائمہ اور آبادان کا محاصرہ توڑے جانے کی سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے وطن کے فوجیوں اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جو عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی کہا تھا کہ ایران 40 روزہ جنگ سے زیادہ سخت جنگ کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
