ایران میں کوئی شدت پسند نہیں سب ایرانی اور انقلابی ہیں پزشکیان اور قالیباف کا ٹرمپ کے بیان پر رد عمل

پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیان پر مشترکہ ردعمل میں کہا ہے کہ ایران میں کوئی شدت پسند ہے نہ اعتدال پسند، ہم سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔ ایرانی صدر نےبدنیتی اورناکہ بندی کوحقیقی مذاکرات میں اصل رکاوٹ قرار دیدیا، باقرقالیباف نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی میں جنگ بندی بے معنی ہے۔دونوں رہنماؤں نے کہا رہبر معظم انقلاب کی مکمل پیروی کرتے ہوئے جارح کو پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔ادھر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ میدان جنگ ہو یا سفارتکاری مکمل مربوط محاذ ہیں، ایرانی پہلے سے کہیں متحد ہیں۔عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ناکامی ایران کےتمام ریاستی اداروں کے اتحاد، ایک مقصد اور نظم وضبط میں جھلکتی ہے۔ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا کہ ایران کی تیز رفتار کشتیاں اور سمندری ڈرونز امریکی بحریہ کے جہازوں کو تباہ کرنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی آبنائے ہرمز تک پہنچنے کی ہمت بھی نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ ان کے انتہائی جدید سمجھے جانے والے جہازوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے اندر سخت گیر اور نام نہاد اعتدال پسندوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *