ملکی تاریخ میں پہلی بار پاور سیکٹر اہلکاروں کے فری یونٹس ختم کردیے گئے

پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی پاور ڈویژن نے ملک میں بجلی کی صورتحال خصوصاً 29 اپریل کی رات کے پیک اوقات سے متعلق وضاحت جاری کر دی ہے۔ ترجمان کے مطابق اس دوران ملک بھر میں بجلی کی ترسیل اور طلب کے نظام میں کسی قسم کی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رات کے پیک اوقات میں بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق رہی جبکہ پن بجلی کی پیداوار 6000 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی۔ ملک میں پن بجلی کی مجموعی استعداد 11500 میگاواٹ تک ہے۔ترجمان کے مطابق مقامی گیس کی فراہمی میں بہتری کے باعث اضافی پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا جس سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ اسی بہتری کے نتیجے میں جنوبی علاقوں سے نیشنل گرڈ میں مزید استحکام آیا اور تقریباً 500 میگاواٹ بجلی کی ترسیل ممکن ہوئی۔مزید بتایا گیا کہ نظام میں بہتری کے باعث اضافی 100 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرنا بھی آسان ہوا۔پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ زیادہ نقصان والے فیڈرز پر “اکنامک لوڈ مینجمنٹ پالیسی” کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم اس کا پیک آورز میں لوڈ مینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ترجمان کے مطابق عالمی سطح پر ایل این جی کی دستیابی میں مشکلات کے باعث تقریباً 4700 میگاواٹ کے پاور پلانٹس فی الحال بجلی پیدا نہیں کر پا رہے۔ایل این جی کی دستیابی سے بجلی کا شارٹ فال ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، پاور ڈویژن کے مطابق اس اقدام سے پاور جنریشن میں بہتری آئے گی اور طلب و رسد کے فرق کو کم کیا جا سکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *