پاکستان نیوز پوائنٹ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں. خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران کے دونوں سینئر عہدیدار قطر کے وزیرِاعظم سے اہم علاقائی اور سفارتی امور پر بات چیت کریں گے۔ بات چیت میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز اور ایرانی فنڈز سمیت اہم معاملات زیر غور ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی دوحہ میں قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کے لیے دوحہ پہنچ گئے۔پیر کو اس دورے سے آگاہ ایک عہدیدار نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ یہ مذاکرات تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے مقصد کے تحت ہو رہے ہیں، تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں نے کسی فوری بڑی پیش رفت کی توقعات کم ظاہر کی ہیں۔رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی ممکنہ رہائی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مذاکرات کا محور امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ اور خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہے، جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت میں آبنائے ہرمز، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور جنگ کے بعد کی ممکنہ سفارتی پیش رفت جیسے اہم معاملات زیرِ بحث ہیں۔رائٹرز کے مطابق ایرانی مرکزی بینک کے گورنر بھی وفد میں شامل ہیں، جو ممکنہ معاہدے کے تحت منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ دورہ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد ایران کے خلاف جاری امریکا اسرائیل جنگ کا خاتمہ ممکن بنانا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے بھی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں اعلیٰ ایرانی وفد مذاکراتی عمل کے سلسلے میں قطر پہنچنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان ملاقاتوں میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کے مختلف پہلوؤں اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بھی بات چیت کی جائے گی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں. تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ یا تو اہم اور مؤثر ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایران کا فی الحال اپنا کوئی وفد پاکستان بھیجنے کا منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے پیر کو پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری رابطوں میں ایک ابتدائی فریم ورک تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے. تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔اسماعیل بقائی کے مطابق مجوزہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت جنگ کے خاتمے اور امریکا کی بحری ناکا بندی ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بدلے میں ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے اور ایک قابل عمل فریم ورک زیر غور ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ابتدائی فریم ورک پر اتفاق ہو جاتا ہے تو جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی مذاکرات آئندہ 60 روز میں کیے جا سکتے ہیں۔ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی صدر شی جنگ پنگ سے اہم…
پاکستان نیوز پوائنٹ آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر…
پاکستان نیوز پوائنٹ اسلام آباد میں سینیٹ نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ایکٹ 2026 کے ترمیمی…
پاکستان نیوز پوائنٹ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایران امریکہ مذاکرات کے باعث سونے کی لمبی چھلانگ، عالمی و مقامی…
پاکستان نیوز پوائنٹ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمین حج نے مناسک حج کا…