اردو نیوز اپڈیٹس

دنیا کی پہلی سولر ایمبولینس کا کامیاب تجربہ

پاکستان نیوز پوائنٹ
افریقہ میں صحت کی سہولتوں تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ براعظم کے تقریباً ایک تہائی لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انہیں طبی سہولت کے لیے دو گھنٹے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، اس کے علاوہ بہت سے طبی مراکز میں بجلی کی سہولت موجود نہیں، جس کے باعث وہاں ضروری طبی آلات چلانا اور بعض خدمات فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے نیدرلینڈز کے طلبہ نے ایک منفرد گاڑی تیار کی ہے جسے ’اسٹیلا جووا‘ کا نام دیا گیا ہے، یہ شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس ہے جس میں ایکسرے مشین، الٹراساؤنڈ اور ویکسین کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے فریج سمیت مختلف طبی آلات موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس گاڑی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی چھت پر سولر پینل نصب ہیں جو سفر کے دوران بھی توانائی پیدا کرتے رہتے ہیں، جب گاڑی کھڑی ہوتی ہے تو اضافی سولر پینل باہر نکال کر پھیلا دیے جاتے ہیں، جس سے سورج کی روشنی حاصل کرنے کا رقبہ بڑھ جاتا ہے اور زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔اسٹیلا جووا تیار کرنے والی سولر ٹیم آئندھوون میں 23 طلبہ شامل ہیں، جن کا تعلق آئندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور دو دیگر تعلیمی اداروں سے ہے، ٹیم اسے دنیا کی پہلی شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس قرار دیتی ہے، تاہم یہ روایتی ایمبولینس سے کچھ مختلف ہے، کیونکہ اس کا بنیادی مقصد مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنا نہیں بلکہ طبی آلات اور انہیں چلانے کے لیے درکار توانائی دور دراز علاقوں تک پہنچانا ہے۔ طلبہ نے رواں ماہ کینیا میں غیر سرکاری تنظیم امریف ہیلتھ افریقہ کے تعاون سے اس گاڑی کا عملی تجربہ کیا، مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا اسٹیلا جووا طویل فاصلے اور دشوار گزار راستوں پر سفر کرسکتی ہے اور دور دراز علاقوں میں پہنچنے کے بعد اپنے طبی آلات کو صرف شمسی توانائی سے چلا سکتی ہے یا نہیں۔تجربے کے دوران گاڑی نے کینیا میں 800 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا، اس میں جنوب مغربی کینیا کے علاقے ناراک میں واقع موسرو کے ایک صحت مرکز کا سفر بھی شامل تھا، جہاں بجلی کی سہولت موجود نہیں ہے، وہاں پہنچنے کے لیے طلبہ کو کئی گھنٹوں تک گرد آلود اور گڑھوں سے بھری کچی سڑک پر سفر کرنا پڑا۔ ٹیم کی رکن 22 سالہ ازابیلا واننگن کے مطابق گاڑی نے دشوار راستے پر توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی، انہوں نے بتایا کہ ٹیم کے ارکان گاڑی کی کارکردگی دیکھ کر مثبت طور پر حیران ہوئے۔ تجربے کا ایک اہم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ جب اسٹیلا جووا ایک جگہ کھڑی تھی اور اس کے تمام طبی آلات بیک وقت چل رہے تھے، تب بھی سولر پینل اتنی توانائی پیدا کر رہے تھے جو گاڑی اور آلات کی کھپت سے زیادہ تھی، طلبہ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی روایتی ایندھن یا بجلی کے چارجنگ اسٹیشن سے منسلک ہوئے بغیر بھی کام کرسکتی ہے۔ تجربے میں طبی آلات حقیقی مریضوں پر استعمال نہیں کیے گئے، تاہم سولر ٹیم آئندھوون اور امریف ہیلتھ افریقہ کے مطابق ان آلات کے ذریعے دو دن میں تقریباً 200 افراد کا علاج کیا جا سکتا تھا۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش اسکول کاافتتاح کردیا

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دانش اسکول کا…

21 hours ago

امریکی بحریہ کی پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے وزارت اطلاعات

پاکستان نیوز پوائنٹ وزارت اطلاعات و نشریات نے امریکی بحریہ کی پاکستانی اجازت سے پاکستانی…

21 hours ago

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کا رابطہ علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور

پاکستان نیوز پوائنٹ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایران کے وزیر خارجہ…

21 hours ago

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت

پاکستان نیوز پوائنٹ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور مصر کے…

21 hours ago

ایران کو جوہری معاہدہ یا تباہ کن جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب جلد کرنا ہو گا پیٹ ہیگسیتھ

پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے…

21 hours ago

حوثی حملوں کے خلاف سعودی عرب کا دفاع کریں گے مصری صدر کا اعلان پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب

پاکستان نیوز پوائنٹ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب…

21 hours ago