امریکا ایران معاہدے کی کوششیں تیز قطری وفد کا ایک ہفتے میں تہران کا دوسرا دورہ

پاکستان نیوز پوائنٹ
تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے قطری ثالثوں کے ساتھ ہونے والے سفارتی مذاکرات کا نیا دور مکمل ہونے کے بعد ایرانی مذاکرات کار دوحہ سے روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ فریقین کو تجاویز پر مبنی ایک نیا تزویراتی مسودہ ٌپیش کردیا گیا ہے. جس کی روشنی میں آئندہ دنوں میں ایک اور ملاقات متوقع ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے واضح کیا کہ ایرانی وفد کی اتوار کو دوحہ سے روانگی مذاکرات میں کسی تعطل یا مشکلات کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، نئے مسودے کے مندرجات پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ دوحہ مذاکرات کی بنیاد ستمبر میں ایران کی جانب سے پیش کیا گیا سات نکاتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کرنا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ تہران اب اس منصوبے کو تیزی سے نافذ کرنے کی تجویز دے رہا ہے۔ترجمان کے مطابق نائب ایرانی وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک تہران کے پیغامات پہنچانے کے لیے دوحہ میں قیام کیا تھا۔اسماعیل بقائی نے تہران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات بالکل صاف، معقول اور منطقی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا اپنا بحری محاصرہ ختم نہیں کرتا اور ایران کے قانونی مطالبات و ضروریات کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک نہ تو کسی حتمی معاہدے کا آغاز ہو سکتا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا یا محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔اس سے قبل قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی اشارہ دیا تھا کہ نئے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو ابتدائی سات دنوں کے بجائے صرف دو دن کے اندر کھولا جا سکتا ہے، اگرچہ ایران کی بنیادی تجاویز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں مسترد کر دیا تھا۔سفارت کاری کا یہ نیا سلسلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منگل کے روز امریکا میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیوں میں ممکنہ اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔امریکی انتخابات کے حوالے سے ایرانی نقطہ نظر پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کو وسط مدتی انتخابات سے کسی ’نئے امریکا‘ کے جنم لینے کی توقع نہیں ہے۔دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا رائے دہی کے عمل سے قبل ایران پر نئے حملے نہیں کرے گا اور تہران کے ساتھ بات چیت مثبت رہی ہے. تاہم انہوں نے انتخابات کے بعد مزید عسکری اقدامات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *