پاکستان نیوز پوائنٹ
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں ایک فیصد فکس ٹیکس تاجر اسکیم، ریٹیلرز کی رجسٹریشن، ٹیکس ریٹرنز اور سینیٹ اسٹاف کے خصوصی الاؤنسز سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کمیٹی کو کہا کہ ریٹیلرز اسکیم تاجروں سے مسلسل مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے، ان کے مطابق اب تک 10,338 دکانیں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں، جن میں 2,337 نئے دکاندار شامل ہیں جبکہ رجسٹرڈ دکانداروں میں صرف 787 فائلرز ہیں۔دکانداروں کے لیے رجسٹریشن کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، غیر رجسٹرڈ دکانداروں کے خلاف انفورسمنٹ اور جرمانے کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن نہ کرانے کی صورت میں ایف بی آر مارکیٹ میں آئے گا۔کمیٹی رکن فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صرف تاجر رہنماؤں سے بات کرنا کافی نہیں، اسکیم کی مؤثر تشہیر بھی ضروری ہے، انہوں نے ایک ماہ تک مسلسل تشہیر کی تجویز دی۔چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ اسکیم پر جتنی محنت کی گئی ہے، انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ان کے مطابق دکانداروں کی رجسٹریشن کے لیے بعض اوقات سختی کرنا ہوگی کیونکہ کارروائی نہ ہونے کی صورت میں آئندہ آنے والی اسکیمیں بھی متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ رجسٹریشن توقعات سے کم ہے اور سوشل میڈیا پر اسکیم کی تشہیر کی جا رہی ہے۔اب تک 55 لاکھ ٹیکس ریٹرنز فائل ہو چکی ہیں جو گزشتہ سال کی اسی تاریخ کے مقابلے میں 15 لاکھ زیادہ ہیں، حکام نے بتایا کہ گزشتہ سال 40 لاکھ ریٹرنز فائل ہوئی تھیں اور شام تک رواں سال ریٹرنز کی تعداد 65 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ممبر ایف بی آر حامد عتیق سرور نے بتایا کہ ملک میں تقریباً 43 لاکھ ریٹیلرز ہیں، جن میں سے 6 لاکھ فائلرز ہیں۔ ایف بی آر مزید 5 سے 7 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں 2 لاکھ رضاکارانہ طور پر شامل ہونے کی توقع ہے جبکہ باقی کو انفورسمنٹ کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔اجلاس میں ٹیکس ریفنڈز کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ کچھ ریفنڈز ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی پراسیس میں ہیں اور مقررہ تاریخ سے پہلے ادائیگی کر دی جائے گی۔اجلاس کے دوسرے حصے میں سینیٹ اسٹاف کے خصوصی الاؤنسز کا معاملہ زیرِ بحث آیا، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو نے بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موصول ہو چکا ہے اور دیگر کیسز بھی دوبارہ جائزے کے لیے بھیجے جا سکتے ہیں۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سینیٹ کا اپنا ڈھانچہ ہے اور اسٹاف کی تنخواہوں و مراعات سے متعلق فیصلے خود کرنے چاہئیں، فاروق ایچ نائیک نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ سینیٹ پارلیمنٹ ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں مذکورہ ’’متعلقہ ڈیپارٹمنٹ‘‘ سے مراد سینیٹ نہیں۔سلیم مانڈوی والا نے معاملے کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو 14 روز کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس مدت میں مسئلہ حل کیا جائے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں…
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ…
پاکستان نیوز پوائنٹ نجی ٹی وی چینل ’’ ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی…
پاکستان نیوز پوائنٹ خیبرپختونخوا کے علاقے میرعلی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کرتے…
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی صورتحال بہت…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو امریکا کی جانب سے پیش…