پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایک ملک میں 2 خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں، خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی عملداری ختم ہو چکی تھی، امید ہے اب خیبرپختونخوا کے حالات میں بہتری آئے گی۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریف کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ پالیسی پر اتفاق رائے کیلئے متعدد بار مذاکرات کی کوشش کی، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا انسداد دہشتگردی کے مربوط اقدامات پر آمادہ نہیں ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور مشترکہ پالیسی کے بارے میں مذاکرات کر رہے تھے، وفاقی حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، خیبرپختونخوا کے عوام نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدام کا خیرمقدم کیا، امیدہے اب خیبرپختونخوا کے حالات میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک ملک کی دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں، ایک طرف ہم افغانستان کے حوالے سے بات چیت اور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں اور عبوری افغان حکومت قابل اعتبار اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں کیلئے استعمال نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف صوبائی حکومت کی عبوری افغان حکومت کے بارے میں الگ پالیسی ہے، دہشت گردی کے خلاف ایک ہی ملک میں دو مختلف پالیسیاں کیسے ہو سکتی ہیں؟ آئین سازوں نے ان دفعات کو آئین میں ایسے ہی حالات سے نمٹنے کیلئے شامل کیا تھا۔عطاء تارڑ نے کہا کہ صوبے میں حکمرانی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا، امن و امان کی صورتحال بھی مکمل طور پر خراب ہوگئی تھی، دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے ذریعے اب تک خیبر پختونخوا حکومت کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کئے جا چکے ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ بہت بڑی رقم ہے، اسے دہشت گردی کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) قائم کرنے پر کیوں خرچ نہیں کیا گیا؟ یہ رقم خیبر پختونخوا میں سیف سٹی کیمرے نصب کرنے کے لئے کیوں استعمال نہیں ہوئی؟انہوں نے کہا کہ پرتشدد انتہاء پسندی کے خلاف موثر بیانیہ تشکیل دینے پر یہ رقم کیوں خرچ نہیں کی گئی؟ فرانزک لیبارٹری قائم کرنے یا پولیس کے لئے جدید آلات خریدنے کی غرض سے یہ وسائل کیوں استعمال نہیں کئے گئے؟ان کا کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل خیبر پختونخوا میں کوہاٹ کا دورہ کیا جہاں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا، میں نے ہسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کی، شہداء کے گھروں پر بھی گیا، خیبر پختونخوا میں لوگ ہر ممکن طریقے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، شدید مشکلات اور تکالیف برداشت کرنے کے باوجود زخمی افراد کے عزم اور حوصلے میں کوئی کمی نہیں تھی۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جو حکومت عوام کے جان و مال کی حفاظت اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہو، وہ دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ان کی سرگرمیوں کو فروغ کیسے دے سکتی ہے؟ صوبے میں سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے درمیان ایک مبینہ گٹھ جوڑ موجود تھا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا غیرملکی میڈیا نمائندوں کو بریف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا اعلان صدر پاکستان نے کیا، آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے میں اہم عنصر تھے۔انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا ٹائم فریم نہیں دے سکتے، دونوں کی مدت مختلف ہے، ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع کی جا سکتی ہے، آئین ریاستی نظام اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار کا تعین کرتا ہے، آئین بنیادی دستاویز ہے، ریاستی نظام حکومت اور مختلف حالات سے نمٹنے کا طریقہ کار طے کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، یہ مسئلہ نیا نہیں، افغان جنگ کے بعد خطے میں دہشت گردی کے اثرات سامنے آتے رہے، پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادری اور قربانیوں کی مثالیں قائم کیں، پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کوششیں آج بھی جاری ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ گئے، 2021ء سے 2024ء کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد بڑھ کر تقریباً 8,600 ہوگئی، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا، دہشت گردی سے متعلق اعداد و شمار مختلف سرکاری اداروں نے وفاقی حکومت سے شیئر کئے۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے میں اہم عنصر تھے، پاک فوج قانون کے نفاذ اور داخلی امن و امان کے قیام میں کردار ادا کر رہی ہے، ملکی سرحدوں کا دفاع پاک فوج کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی ضرورت پر مسلح افواج داخلی بدامنی پر قابو پاتی ہیں، پاک فوج اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کیا، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قیمتی جانوں کی قربانیاں دیں، بے گناہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کوششیں مؤثر بنانے کیلئے متعلقہ اداروں میں مضبوط رابطہ ضروری ہے، پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات آئین کے تحت تقسیم ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئینی اور قانونی دائرہ اختیار میں کام کرتی ہیں۔
