روسی دارالحکومت ماسکو میں روسی صدر پوتن اور پزشکیان کی اہم ملاقات

پاکستان نیوز پوائنٹ
گیس برآمد کرنے والے ممالک کے آٹھویں فورم پر روسی دارالحکومت ماسکو میں پوتن اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر کے ساتھ بالمشافہ ملاقات میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ مشترکہ مفادات کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے فریم ورک کے تحت اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر پورا کرتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے توقع ظاہر کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال میں مثبت پیش رفت ہوگی، جبکہ انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ ماسکو تہران کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔ انہوں نے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کے منصوبے پر کام جاری رہنے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے پہلے 8 مہینوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کے حجم میں 10.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف صدر مسعود پزشکیان نے ایران کو فراہم کی جانے والی حمایت پر روس کا شکریہ ادا کیا اور سیاسی، سکیورٹی و معاشی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی سطح اور دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافے کو سراہا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ خطے میں امریکی اقدامات یک طرفہ ہیں۔ انہوں نے پہلے سے کہیں زیادہ کثیر الجہتی سفارت کاری کو مضبوط کرنے اور پابندیوں کا شکار ممالک کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی ممالک امریکہ پر انحصار کیے بغیر علاقائی سطح پر چیلنجوں سے نمٹنے اور ان کے حل کی لازم صلاحیت اور ارادہ رکھتے ہیں۔ پزشکیان نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان مشترکہ ارادہ متعدد شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے، جن میں سائنس، معیشت، صنعت، ثقافت، سکیورٹی اور عسکری امور شامل ہیں۔ ایرانی ایوان صدر نے بتایا کہ پزشکیان اور پوتن نے تیل، گیس اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے اور معاشی تبادلوں کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ روس اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات سیاسی، معاشی اور علاقائی امور میں ماسکو اور تہران کے درمیان مسلسل ہم آہنگی اور مغربی دباؤ و پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کی دونوں ممالک کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایران سے جڑی جنگ کے اثرات اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو قابو میں لانے کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں مزید اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ماسکو نے تنازع کے حل میں مدد کے لیے اپنی آمادگی کی تصدیق کی تھی، جبکہ تہران نے سیاسی و سفارتی راستوں کے ذریعے علاقائی بحرانوں سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *