پاکستان نیوز پوائنٹ
نیویارک میں کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی ہے جہاں بٹ کوائن کی قیمت امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے بعد تیزی سے گر گئی۔ اس پیش رفت نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن 11 اپریل کو تقریباً 72,974 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا اور مذاکرات کے دوران یہ عارضی طور پر 73,000 ڈالر کے قریب بھی پہنچ گیا تھا .تاہم جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی کہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں قیمت میں فوری کمی دیکھنے میں آئی اور یہ سطح دوبارہ نیچے آ گئی۔اس سے قبل بٹ کوائن کی قیمت 74,000 ڈالر کے قریب تک بھی پہنچی تھی .لیکن امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے وفد کے بغیر معاہدہ کیے واپس جانے کے بعد مارکیٹ کا رجحان یکدم بدل گیا۔مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس ناکام مذاکراتی عمل نے سرمایہ کاروں میں خوف اور احتیاط کا رجحان بڑھا دیا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فروخت کا دباؤ پیدا ہوا۔ بعض پیشگوئیوں کے مطابق قیمت 12 اپریل کی دوپہر تک 63,000 ڈالر تک بھی گرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی .جس کی بڑی وجہ بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETF) میں سرمایہ کی واپسی بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار خطرناک اور غیر مستحکم اثاثوں سے تیزی سے نکل رہے ہیں. جس سے مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔یہ گراوٹ اس 21 گھنٹے طویل براہ راست امریکہ اور ایران مذاکرات کے بعد سامنے آئی جو 1979 کے بعد پہلی بار ہوئے تھے لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
