پاکستان نیوز پوائنٹ
بنگلہ دیش اور نیپال کے بعد فرانس میں بھی نوجوانوں کا غصہ سڑکوں پر آگیا.پیرس سمیت کئی شہروں میں ہزاروں طلبہ نے اسکولوں کے دروازے بند کرکے احتجاج شروع کردیا. مظاہرین تعلیمی بجٹ میں کٹوتی واپس لینے اور طلبہ و نوجوانوں کے لیے بہتر سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔فرانس میں اسکول طلبہ کی جانب سے حکومت کی تعلیمی اور معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، پیرس سمیت کئی بڑے شہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے اسکولوں کے دروازوں پر دھرنے دے کر بیریکیڈز لگا دیے، جس کے باعث سیکڑوں ہائی اسکول بند ہوگئے۔شمال مشرقی پیرس میں 17 سالہ طالبہ صوفیہ سمیت متعدد طالبات کلاسز چھوڑ کر احتجاج میں شریک ہیں۔ پیرس کے لِسی وولٹیر اسکول کی ایک طالبہ نے ’دی گارجین‘ کو بتایا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ یہ نوجوانوں کی ایک بڑی احتجاجی تحریک بنے گی۔طالبہ کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے صرف یہ چاہتی ہیں کہ ان کی بات سنی جائے۔ ان کے مطابق خراب حالات میں پڑھائی کرنے کے بجائے احتجاج کرنا بہتر ہے کیونکہ یہی حکومت تک اپنی آواز پہنچانے کا طریقہ ہے۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی بجٹ میں کی گئی کٹوتی واپس لی جائے، طلبہ کے الاؤنس میں اضافہ کیا جائے اور روزگار سے متعلق پالیسیوں میں اصلاحات کی جائیں۔صوفیہ نے نوجوانوں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شعبے میں سرکاری سرمایہ کاری کم ہے.خستہ حال عمارتوں میں 40 تک طلبہ ایک کلاس میں پڑھتے ہیں، اساتذہ کی تنخواہیں کم اور عملہ بھی ناکافی ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے آن لائن نظام بھی مشکل اور غیر واضح ہے، جبکہ مئی اور جون کے گرم موسم میں کئی کلاس رومز میں درجہ حرارت ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔احتجاج کرنے والے طلبہ نے اسکولوں کی خستہ حالی کی شکایت بھی کی۔ ان کے مطابق بعض کلاس رومز میں چھت کا حصہ گرنے، پانی ٹپکنے اور کاکروچ کی موجودگی جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ کچھ طلبہ نے اسکول کے طویل اوقات اور تدریسی عملے کی کمی پر بھی شکایت کی۔صوفیہ کا کہنا تھا کہ تعلیمی بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ فوج کے لیے اضافی فنڈنگ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ وہ مستقبل میں آرٹ کی تعلیم حاصل کرکے اینیمیشن کے شعبے میں کام کرنا چاہتی ہیں۔طلبہ کے احتجاج میں بعض اساتذہ بھی ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ جمعے کو ملک بھر میں سیکڑوں ہائی اسکول بند رہے یا ان کے باہر بیریکیڈز لگائے گئے، جبکہ احتجاج کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔فرانسیسی حکومت کو کئی ماہ کے بدترین بحران کا سامنا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طلبہ کا یہ احتجاج آئندہ ہفتے بھی جاری رہ سکتا ہے۔
