پاکستان نیوز پوائنٹ
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ہم انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحدی مسائل کی پیچیدگیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو مکمل طور پر چین کے کنٹرول میں ہے۔جمعرات کو صدر پوتن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا روس کا قابل اعتماد شراکت دار ہے۔پڑوسی ممالک کے تعلقات کے انڈیا پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے مختلف ممالک کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات ہیں، اسے چین کے ساتھ اپنے تعاون کو ذہن میں رکھنا ہوگا، لیکن ہر کوئی چین کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے۔انھوں نے انڈیا اور چین کے تعلقات کو انتہائی حساس اور کثیر جہتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مداخلت کرنا اچھا خیال نہیں ہے۔روسی صدر نے کہا کہ ’ہم انڈیا اور چین دونوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ صدر شی اور وزیر اعظم مودی دونوں ہی سرحدی تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔روس کے چین کے ساتھ تعلقات پر انھوں نے کہا کہ جہاں تک روس کا تعلق ہے چین اور انڈیا دونوں کے ساتھ ہمارے اپنے تعلقات ہیں، روس اور انڈیا کے تعلقات چین کو پریشان نہیں کرتے اور چین کے ساتھ ہمارے تعلقات بھارت کو پریشان نہیں کرتے۔برکس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک وقت میں میں نے مشورہ دیا تھا کہ انڈیا اور چین کے لیڈر یہاں ملیں، اسی طرح روس-انڈیا-چین فورم کا قیام عمل میں آیا۔پاک چین تعلقات کے بھارت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ ہمیں کسی کے ساتھ تعاون کرنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے وہ انڈیا ہو یا چین، ہم انڈیا کے ساتھ جدید ہتھیاروں کے نظام کے شعبے میں تعاون کرتے ہیں، انڈیا نے براہموس میزائل تیار کیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’روس نے انڈیا کو سکھوئی-57 لڑاکا جیٹ ٹیکنالوجی پر مل کر کام کرنے کی تجویز دی تھی۔ لیکن ہمارے انڈین دوستوں نے کہا کہ آپ اسے خود تیار کریں اور ممکن ہے کہ ہم بعد میں اس میں شامل ہو جائیں۔انھوں نے کہا کہ ’ہم اس شعبے میں انڈیا کے ساتھ کام کرنے، اس طیارے کی فراہمی اور اس کی مزید ترقی میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ فضائی دفاعی نظام کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہے۔
