پاکستان نیوز پوائنٹ
ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے اس واقعے کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی اور اُن کے سوالوں کے جواب بھی دیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے پر حملہ کرنے والا اور فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص ’لون ولف‘ تھا۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ اسے اکیلا حملہ آور سمجھ رہے ہیں، اور میں بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہوں۔ ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا وہ اپنی سلامتی کے حوالے سے فکرمند ہیں اور کیا اس واقعے کا تعلق ایران میں جنگ سے ہو سکتا ہے؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’مجھے نہیں لگتا، لیکن آپ کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ ہم بہت جلد مزید معلومات حاصل کر لیں گے۔ ہمارے پاس دنیا کے بہترین لوگ اس پر کام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہمیں ایران کے حوالے سے اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو وہ جوہری ہتھیار حاصل کر لیں گے۔ ہم نے بی 2 بمبار طیاروں کے ذریعے کارروائی کی۔ میں نے اپنی پہلی مدت میں اوباما دور کا ایران جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا، جو ایک تباہ کن معاہدہ تھا اور جوہری ہتھیار کے حصول کی راہ ہموار کر رہا تھا۔ وہ یقیناً اسے استعمال کرتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب آپ ایسے اقدامات کرتے ہیں تو آپ خود نشانہ بن جاتے ہیں۔ اگر میں یہ سب نہ کر رہا ہوتا تو شاید میں کم ہدف بنتا لیکن میں جو کر رہا ہوں مجھے اس پر فخر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ اکثر ایسی کہانیاں سنتے ہیں کہ لوگ ایسے حالات میں ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ میں ایسا نہیں ہوں۔ یہ واقعہ مجھے ایران کے خلاف جنگ جیتنے سے نہیں روک سکتا۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک اس واقعے کے تعلق کا سوال ہے میرے خیال میں جو معلومات ہمارے پاس ہیں ان کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔(’لون ولف‘ کی اصطلاح عموماً اس فرد کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اکیلے ہی کسی پرتشدد یا مجرمانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کرے یا کسی انتہا پسند تنظیم سے براہِ راست وابستہ نہ ہو۔)
