پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک بار پھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی ووٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ووٹ دیں تاکہ ’ہم نے جو کام مل کر شروع کیا ہے اسے مکمل کیا جا سکے۔‘ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں گذشتہ ہفتے نیتن یاہو کی حمایت میں کیے گئے اپنے بیان کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان بہت اچھے تعلقات رہے ہیں اور دونوں نے مختلف فوجی کارروائیوں میں مشترکہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انھوں نے امریکہ کے وینزویلا کے خلاف آپریشن کو تاریخ کی کامیاب ترین فوجی کارروائیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل امریکہ اور اسرائیل نے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا تھا۔ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے بعد ایران کے پاس نہ مؤثر بحریہ رہی ہے اور نہ ہی فضائیہ، جبکہ اس کی فوج اور معیشت بھی مشکلات کا شکار ہیں۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں مہنگائی کی شرح 301 فیصد تک پہنچ چکی ہے، بحری محاصرے کے باعث تیل تک رسائی متاثر ہوئی ہے اور ایرانی فوجی و سول قیادت کی دو سطحیں ختم ہو چکی ہیں۔اپنے پیغام میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’جنگی حالات کے لیے موزوں اور غیر معمولی وزیرِ اعظم‘ قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں ایران اور اس کے اتحادی ’اسرائیل کو چھوٹا شیطان اور امریکہ کو بڑا شیطان‘ کہتے تھے۔ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ اب ’امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد‘ جیسے نعرے سنائی نہیں دیتے اور آئندہ بھی نہیں سنائی دیں گے۔اپنے پیغام کے اختتام پر امریکی صدر نے اسرائیلی ووٹروں سے مخاطب ہو کر کہا: ’نیتن یاہو کو وزیرِ اعظم منتخب کریں۔ ہمیں وہ کام مکمل کرنا ہے جو ہم نے مل کر شروع کیا تھا۔‘یہ ایک ہفتے کے دوران نیتن یاہو کے حق میں ٹرمپ کا دوسرا عوامی حمایت نامہ ہے، جو اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہ
