اردو نیوز اپڈیٹس

نیتن یاہو کی کرسی خطرے میں؟ سابق فوجی سربراہ وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار بن گئے

پاکستان نیوز پوائنٹ
اسرائیل کی سیاست میں بنجمن نیتن یاہو ایک طویل عرصے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں، لیکن اب سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ ان کے لیے ایک اہم چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں آئزن کوٹ اپنی جماعت یاشار کے ساتھ میدان میں ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی جماعت کو نیتن یاہو کی پارٹی ’لیکوڈ‘ پر برتری حاصل ہے۔آئزن کوٹ کا انداز نیتن یاہو سے مختلف ہے۔ وہ کم گو ہیں، میڈیا سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے اور اپنی فوجی خدمات کو سیاسی مہم کا اہم حصہ بناتے ہیں۔ ان کی مقبولیت کی ایک وجہ ان کے خاندان کی قربانیاں بھی ہیں۔ غزہ میں لڑائی کے دوران ان کا ایک بیٹا اور دو بھتیجے ہلاک ہو چکے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، آئزن کوٹ کی آمد اسرائیلی پالیسیوں میں کسی بڑی نرمی کی ضمانت نہیں۔ وہ نیتن یاہو کی قیادت اور ان کے دائیں بازو کے اتحادیوں کے مخالف ہیں، لیکن فلسطینی ریاست کے قیام اور حماس کے معاملے پر ان کا مؤقف بھی سخت ہے۔آئزن کوٹ نے اسرائیلی فوج میں 41 سال خدمات انجام دیں اور 2015 سے 2019 تک فوج کے سربراہ رہے۔ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ان کی سکیوریٹی پالیسی کا اہم پہلو حماس کی فوجی طاقت ختم کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ وہ ایران کے معاملے پر فوجی کارروائی یا امریکا کی حمایت سے سفارتی معاہدے، دونوں امکانات کی حمایت کرتے ہیں۔آئزن کوٹ نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں مبصر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی، لیکن آٹھ ماہ بعد حکومت کی حکمت عملی پر اختلاف کرتے ہوئے کابینہ چھوڑ دی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی فوجی اور حکومتی طاقت ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ ان کے نزدیک یرغمالیوں کی رہائی جنگ کا واحد اہم مقصد تھا جو حاصل کیا گیا۔غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیلی کارروائیوں میں 74 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود غزہ کے مستقبل، حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا جیسے معاملات حل طلب ہیں۔آئزن کوٹ کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نیتن یاہو کی مخالفت کے باوجود وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک اسرائیل کو سکیوریٹی کے معاملات پر حتمی اختیار حاصل ہونا چاہیے۔وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، تاہم ان کے مطابق آبادکاری قانونی اور اسرائیل کے قومی مفادات کے مطابق ہونی چاہیے۔ وہ فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے تشدد اور مغربی کنارے کے ای ون علاقے میں نئی بستیوں کی تعمیر کی مخالفت بھی کر چکے ہیں۔آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحادیوں ایتامار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کی بھی مخالفت کی ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کو فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزامات کے سلسلے میں بعض مغربی ممالک کی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔مراکش سے ہجرت کرنے والے یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والے آئزن کوٹ اسرائیل کی میزراحی یہودی برادری سے ہیں۔ وزیر اعظم منتخب ہونے کی صورت میں وہ اس برادری سے تعلق رکھنے والے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ہوں گے۔تاہم انتخابات میں کامیابی کے باوجود حکومت بنانا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اسرائیل کے سیاسی نظام میں حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ آئزن کوٹ عرب اسرائیلیوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے مخالف ہیں، جس سے ان کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔وہ دیگر صہیونی جماعتوں کو ساتھ ملا کر وسیع قومی اتفاق رائے پر مبنی حکومت بنانے کے خواہش مند ہیں۔آئزنکوٹ کی انتخابی مہم اسرائیلی قیادت میں تبدیلی کی امید ضرور پیش کرتی ہے، لیکن ان کی سکیورٹی پالیسی اور فلسطینی ریاست کی مخالفت ظاہر کرتی ہے کہ نیتن یاہو کے متبادل کا مطلب لازماً اسرائیل کی بنیادی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں ہوگا۔ انتخابات کے نتائج اور حکومت سازی کے لیے بننے والے اتحاد ہی طے کریں گے کہ آئزن کوٹ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

صدر مملکت آصف علی زرداری کے اعزاز میں جرمن وزارت دفاع میں والہانہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا

پاکستان نیوز پوائنٹ صدر مملکت آصف علی زرداری کے اعزاز میں جرمن وزارت دفاع میں…

45 minutes ago

وزیراعظم نے2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کردی

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے سال 2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت…

48 minutes ago

دہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں گے انہیں سخت جواب دیا جائے گا فیلڈ مارشل

پاکستان نیوز پوائنٹ آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر…

51 minutes ago

آن لائن فراڈ کے زیادہ تر کیسز میں خواتین نشانہ بن رہی ہیں محسن نقوی

پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ آن لائن فراڈ…

53 minutes ago

وفاق خیبرپختونخوا کو مزید فنڈز دینے کو تیار ہے طلال چوہدری

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے…

55 minutes ago

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے

پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی بڑی کمی…

57 minutes ago