نیٹو کی امریکا کے ایران پر حملوں کی حمایت مارک روٹے نے کارروائی کوضروری اقدام قرار دیدیا

پاکستان نیوز پوائنٹ
نیٹو کے سیکرٹری جنرل Mark Rutte نے ایران پر امریکا کے حالیہ فضائی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے انہیں ’’ضروری اقدام‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جائے تو ایسے حالات میں مؤثر ردعمل دینا ناگزیر ہوتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مارک روٹے نے Ankara میں نیٹو کے سربراہی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی فریق جنگ بندی کی خلاف ورزی کرے تو امریکا جیسے اتحادی کا فوری اور مضبوط ردعمل خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے اہم ثابت ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک ایران کی جانب سے مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد واشنگٹن کی فوری فوجی کارروائی ضروری تھی تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں اور علاقائی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ مارک روٹے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران پر تازہ فضائی حملے کئے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔ دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کو غیر قانونی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو کی جانب سے امریکی کارروائی کی کھلی حمایت اس بات کا اشارہ ہے کہ مغربی اتحاد اس معاملے پر واشنگٹن کے مؤقف کے قریب نظر آتا ہے تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی تجارت، تیل کی رسد اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *