پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا دفتر خارجہ

پاکستان نیوز پوائنٹ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکی کا سرکاری دورہ کریں گے ایران کے دورے میں وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ دوحہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان نے ایک مرتبہ پھر سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قطر اور پاکستان کے ثالثوں نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں جمعرات کو مکمل کرلیں جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مختلف پہلوؤں سے متعلق امور اور لیک لوسرن سربراہی اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کی بنیاد پر مثبت پیش رفت حاصل ہوئی۔ فریقین نے آئندہ عرصے میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا جبکہ آئندہ ملاقات سابق ایرانی سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے بعد جلد از جلد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکی کا سرکاری دورہ کریں گے۔ وزیراعظم ایران میں تعزیتی تقریب میں شرکت کریں گے اور پاکستان کی حکومت و عوام کی جانب سے ایرانی حکومت اور عوام سے اظہارِ یکجہتی کریں گے، جبکہ بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول جائیں گے۔ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار کے شرکا نے معاہدے کے حوالے سے کسی بھی یکطرفہ اقدام کو مسترد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ چھ دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا مسترد نہیں کیا جا سکتا۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ بھارتی قیادت کی وہ سوچ ہے جو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی کوششوں سے 22 ایرانی ملاحوں پر مشتمل جہاز لینورڈیوینا کا عملہ وطن واپس پہنچا ہے، جبکہ پاکستان کی معاونت سے اب تک مجموعی طور پر 70 ایرانی شہری اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران یہ ایرانی عملے کی وطن واپسی کا چوتھا مرحلہ تھا۔ ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے اور پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 29 جون کو افغان ناظم الامور کو ڈیمارش دیا گیا تھا، جس کی وجہ دہشت گردی میں ملوث ایک افغان شہری کی گرفتاری تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کو انٹرنیشنل اولیو کونسل کی رکنیت حاصل ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق زیتون کی کاشت میں پاکستان کی بہتر کارکردگی کے باعث یہ رکنیت ملی، جبکہ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے متعلقہ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان “اولیو ڈپلومیسی” کو بھی فروغ دے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جیلوں میں موجود اپنے 750 شہریوں کی فہرست بھارت کے حوالے کر دی ہے اور حکومت ان کی رہائی اور وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔فاروق آباد کے گردوارے سے متعلق ترجمان نے کہا کہ مذکورہ گردوارہ مذہبی رسومات کے لیے استعمال نہیں ہو رہا تھا اور اس کی خستہ حالت قریبی آبادی کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی اجازت کے بغیر اسے منہدم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم بورڈ نے اسی روز اس عمل کو رکوا دیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت پاکستان کے انتظامی نوعیت کے معاملات پر اعتراضات اٹھانے کے بجائے اپنے ملک میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ بھارت ہو یا کوئی اور ملک پاکستان کو بنجر نہیں بنا سکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بدقسمتی سے صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کی رہائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی، تاہم حکومت پاکستان اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ حکام اور بین الاقوامی فورمز سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان جہاز کے مالک پر بھی زور دے رہا ہے کہ یرغمالیوں کی جلد از جلد رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق خطے میں یورپی یونین کی نیول فورس بھی موجود ہے، تاہم کسی بھی آپریشن کا معاملہ انتہائی پیچیدہ نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کا معاملہ ان کے اہل خانہ کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے اور حکومت ان کی محفوظ رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ سندھ طاس معاہدے سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی کا رخ موڑنے کے لیے بجٹ مختص کرنے سمیت دیگر اقدامات پر پاکستان گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوہ ہمالیہ سے نکلنے والے دریا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں اور ان سے متعلق معاملات میں چین بھی ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے، جبکہ ان دریاؤں کا پانی اربوں انسانوں کی خوراک اور معاش سے وابستہ ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں پاکستان، بھارت اور عالمی بینک کا کردار واضح اور متعین ہے، جبکہ مغربی دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی کمی ہر پاکستانی کو متاثر کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے سے قبل ہی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا آغاز کر دیا تھا،ترجمان نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے مقرر خصوصی ایلچی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ اسحاق ڈار نے اسلاموفوبیا جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے خصوصی ایلچی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کا ایکشن پلان جلد حتمی شکل اختیار کرے گا، جو دنیا بھر میں اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ترجمان نے آصف مرچنٹ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاملے پر ان کے پاس فی الحال کوئی نئی معلومات یا پیشرفت موجود نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ٹرانس افغان ریلوے، کاسا-1000 اور تاپی (ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت) گیس پائپ لائن منصوبوں کے مستقبل سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی بنیادی تشویش صرف یہ ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تو علاقائی روابط اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سخت بیانات کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ ان بیانات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں یہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں تو یہ خوش آئند پیش رفت ہوگی، تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی معلومات یا تصدیق موجود نہیں۔ ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک کے مقدمے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ٹرائل جعلی اور غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یاسین ملک کو جلد آزادی ملے گی۔ آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ معاملے پر انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنا مؤقف پہلے ہی واضح کر چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک آئینی نوعیت کا مسئلہ ہے، جس کا حل آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے، لہٰذا اسے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں جاری حقِ خودارادیت کی تحریک کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ انہوں نے اس معاملے پر بھارت کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *