پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیراعلیٰ سندھ نے ہنگامی خدمات کی جدید کاری کے لیے30.8 ارب روپے کے بڑے منصوبے کی منظوری دے دی۔ایمرجنسی سروسز سے متعلق اہم اجلاس میں ،سندھ بھر میں ہنگامی خدمات کے نظام کو مزید مؤثر اور جامع بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ہنگامی ردعمل کے نظام میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، ہائی رسک عمارتوں میں فوری اصلاحی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ تمام ایمرجنسی اداروں کو ایک متحد اور خودمختار اتھارٹی کے تحت لایا جائے۔ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کا نظام بہتر اور مربوط بنایا جا ئے گا۔منصوبے میں ریسکیو 1122 کا انضمام، جدید فائرفائٹنگ آلات کی خریداری اور نئی فائر اسٹیشنز کا قیام شامل ہے۔100ائر ٹرکس، اسنارکلز، ایریل سیڑھیاں، ڈرونز، فائربائیکس اور آل ٹیرین گاڑیوں کی خریداری بھی منصوبے کا حصہ ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےکہا کہ جدید ایمرجنسی نظام سے شہریوں کا تحفظ، اداروں میں ہم آہنگی اور ردعمل کے اوقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔پیپلز پارٹی حکومت پیشہ ورانہ ہنگامی نظام کے قیام کی جانب پیش رفت کر رہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی آفات سے نمٹنے کے لئے ایک جدید اور مربوط صلاحیت بنائی جائے گی۔ادارہ جاتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ریسکیو 1122 اکیڈمی کے قیام اور عملے کی تربیت پر توجہ دی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے قانونسازی کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی۔
