پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات میں ڈیڈ لاک رات گئے تک برقرار ہے، مذاکرات کا دوسرا دور بظاہر ہر بات پر اتفاق ہو جانے کے بعد بعد میں ڈیڈ لاک آ جانے کے سبب کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہو گیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے آج اپنا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کرنے کے سوشل میڈیا پر اعلان کے بعد صورتحا ل بگڑی اور اس کے بعد مذاکرات میں وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے مذاکرات کاروں سے شکایت کی۔ پی ٹی آئی کے مذاکرات میں بیٹھے ہوئے لوگ ہر بات کو مان رہے تھے لیکن مذاکرات سے باہر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے لیڈر محمود خان اچکزئی نے کوئی بات نہیں مانی۔ شام ساڑھے چھ بجے کے بعد سے رات گئے تک کئی گھنٹے تک مذاکرات میں طے ہو چکی باتوں پر عمل کرنے، لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرنے کے لئے پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کو قائل کیا جاتا رہا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ آخر مذاکرات کا یہ دور کسی نتیجہ کے بغیر ختم کرنا پڑا۔بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جن بہت سی باتوں پر اتفاق ہو گیا تھا، اپوزیشن ان سب باتوں سے آخری لمحات میں پیچھے ہٹ گئی۔رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ذمہ داریاں لینےاور تعاون کرنے پر تیار نہیں۔ مذاکرات کے اگلے دور پر کوئی بات سامنے نہیں آئی، رانا ثنا اللہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے آج دوپہر اپنے گزشتہ پروگرام کے مطابق لکی مروت سے اپنے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے یہ خبریں آئی تھیں کہ حکومت، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، پی ٹی آئی نے اتفاق کیا ہے کہ اسلام آباد کی طرف کوئی لانگ مارچ نہین ہو گا اور خیبر پختونخوا کی ھکومت دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل حمایت اور تعاون کرے گی۔ یہ سامنے آیا کہ معاہدہ کا ڈرافٹ فائنل کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد پی ٹی آئی کے مذاکرات میں شریک رہنماؤں بیرسٹر گوہر اور سے محمود اچکزئی نے بات کی اور ان سب باتوں کو ماننے سے انکار کر دیا جن پر پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم اتفاق کر رہی تھی۔ اس وجہ سے بتایا جا رہا ہے کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک آ گیا۔ بعد میں بتایا گیا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کاروں میں وفاقی حکومت کی یقین دہانیوں کے بعد معاہدہ کے ڈرفٹ پر اتفاق رائے ہونے کا قوی امکان نظر آنے لگا تھا لیکن مذاکرات سے باہر پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور محمود اچکزئی نے ان یقین دہانیوں سے اتفاق نہیں کیا ور سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے وفاقی ھکومت کی تجاویز اور مطالبے ماننے سے انکار کر دیا۔
