پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اُس پر دوبارہ حملہ ہوا تو وہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی فوج کی مشترکہ کمانڈ نے نام لیے بغیر دعویٰ کیا ہے کہ ایک یورپی ملک میں حملوں کی منصوبہ بندی ہوئی ہے.تاہم جو بھی ملک امریکا کا ساتھ دے گا، اسے جنگ میں برابر کا شریک تصور کیا جائے گا۔ایرانی مسلح افواج کے ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز‘ نے اتوار کے روز جاری ہونے والے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ انٹیلی جینس معلومات کے مطابق امریکا نے بعض علاقائی ممالک کو اعتماد میں لے کر ایران کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ یورپ کے ایک ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے دوران کیا گیا، تاہم بیان میں کسی یورپ ملک کا نام واضح نہیں کیا گیا۔بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا یہ منصوبہ بندی جنگ میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور بعض علاقائی ممالک کے اشارے پر کر رہا ہے۔ایرانی فوجی کمانڈ نے خطے کے ممالک کو بھی خبردار کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی امریکی جارحیت کا حصہ بننے سے گریز کریں ورنہ انہیں بھی اس شرانگیزی میں برابر کا شریک تصور کیا جائے گا۔اس سے قبل، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی الجزیرہ کو انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایک اور جارحیت کا قوی امکان ہے مگر تہران ’فیصلہ کُن جنگ‘ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔اسی انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا تھا کہ ایران کی قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور مذاکرات کے حوالے سے مؤقف بھی ان کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی تین شرائط ہیں جس میں ایران سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط سے پیچھے بالکل نہیں ہٹے گا۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے ایران کی جانب سے اپنے مطالبات ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچانے کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی پاسداری اور شرائط پوری نہ ہونے تک مذاکرات کی میز پر واپسی مشکل اور آبنائے ہرمز بند رہے گی
