پاکستان نیوز پوائنٹ
دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس نے تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری کے بعد چوری شدہ اثاثوں کے نقصانات کی تلافی کا عمل شروع کر دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بائننس نے اعلان کیا ہے کہ سائبر حملے کے نتیجے میں متاثر ہونے والے صارفین کے نقصانات کا 90 فیصد پورا کر دیا گیا ہے، اس مقصد کے لیے کمپنی نے اپنے فنڈز سے 6 ارب 34 کروڑ ڈالرز سے زائد مختص کیے ہیں۔کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ نقصانات کی تلافی کی شرح پہلے تقریباً 80 فیصد تھی، جسے بڑھا کر 90 فیصد کر دیا گیا ہے، بائننس باقی متاثرہ ٹوکنز کی خریداری بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے لیے کرپٹو کرنسی مارکیٹس اور اوور دی کاؤنٹر (OTC) لین دین کا استعمال کیا جا رہا ہےبائننس کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن، ایتھیریم، ٹیتھر، بی این بی، سولانا، یو ایس ڈی کوائن، ایکس آر پی، یو ایس ڈی 1، آر ایل یو ایس ڈی اور زیڈ کیش سے متعلق نقصانات کی مکمل تلافی کر دی گئی ہے۔کمپنی کے مطابق باقی 10 فیصد نقصانات کا تعلق ان ٹوکنز سے ہے جن کی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی نسبتاً کم ہے، ان میں مذکورہ 10 اثاثے شامل نہیں ہیں۔کرپٹو ایکسچینج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ تمام متاثرہ اثاثوں کے نقصانات کی 100 فیصد تلافی تک ان ٹوکنز کی خریداری جاری رکھی جائے گی۔کمپنی نے واضح کیا کہ چوری شدہ فنڈز کے مالی اثرات صارفین کے بجائے خود کمپنی برداشت کرے گی۔بائننس نے مزید کہا کہ اس کی اگلی ترجیح رقم نکلوانے (وِد ڈرال) کی سہولت بحال کرنا ہے
