پاکستان نیوز پوائنٹ
آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ پاکستان نے دوسرے جائزہ مذاکرات کی بیشتر شرائط پر عملدرآمد کیا ہے ۔مرکزی بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔نئے ٹیکس فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی شرط پوری کی گئی ہے۔ریٹیلرز سے انکم ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کیا گیا ہے آئی ایم ایف نے کہا پاور سیکٹر کے واجبات کی مقررہ حد کی شرط کو پورا کیا گیا ہے۔ایف بی آر اپنے ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں پر اخراجات کی شرط کو پورا نہیں کیا گیا۔صوبوں کے مجموعی پرائمری خسارے کی شرط کو پورا نہیں کیا گیا۔ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے کی شرط کو پورا نہیں کیا گیا ۔زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کی شرط کو پورا کیا گیا ہے۔سرکاری افسران کے اثاثوں کو پبلک کرنے کی شرط کو پورا کیا گیا ہے ۔ آئی ایم ایف نے بتایا کہ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ پر 31 دسمبر تک عملدرآمد کا پلان پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے 13 میں سے 8 شرائط پرعمل درآمد کیا۔پاکستان 13 میں سے 5 اسٹرکچرل اہداف پر عمل درآمد نہ کرسکا۔پاکستان نے 4 اہداف پر جون 2025 تک عمل درآمد کیا۔
پاکستان نے 7 میں سے 6 پروگرام پرفارمنس جون 2025 تک عمل مکمل کیا۔گورننس اینڈکرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ مقررہ وقت کے اجراء کی شرط پوری نہیں کی گئی۔گورننس اینڈکرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ کا اجراء کیا جاچکا ہے۔ ٹیکس چھوٹ سے گریز کرنے کی شرط پوری نہیں کی گئی،۔چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دیکر شرط کو پورا کرنے میں ناکامی ہوئی۔پاکستان نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
