سیلاب سے تباہی پاک آرمی نے خیبر پختونخوا ،گلگت بلتستان میں 4 انجینئرنگ بٹالین تعینات کر دیں

پاکستان نیوز پوائنٹ
سیلاب کے وقت پاک فوج دن رات کام کر رہی ہے، حالت جنگ ہو یا امن، پاک فوج عوام کے ساتھ ہے۔ یہ باتیں پاک فوج کے ترجمان، آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا کو سیلاب زدہ علاقوں میں پاکستان آرمی کے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن پر اپ ٹو ڈیٹ دیتے ہوئے کہیں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایت پرسیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قوم کے 2 سپوت شہید اور 2 زخمی بھی ہوئے ہیں، فوج اور اس کے تمام افسران اور جوان مشکل کی گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ سیلاب آنے کے بعد سارا علاقہ سیلابی پانی میں گھر جانے کے باوجود (سیالکوٹ) ورکنگ باؤنڈری میں کسی بھی پوسٹ کو خالی نہیں کیا گیا۔ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ پاک فوج سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو کے کاموں میں مصروف ہے لیکن اس دوران خارجیوں اور دہشت گردوں کیخلاف آپریشن بھی متواتر جاری ہیں۔ چاہے پاکستان کا کوئی بھی کونا ہو عوام کے ساتھ ہیں،کوئی باطل قوت کسی قسم کی دراڑ نہیں ڈال سکتی۔ سیلاب کے وقت میں دن رات کام ہورہا ہے۔حالت جنگ ہو یا امن، پاک فوج عوام کے ساتھ ہے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں فلڈ یونٹس کام کررہے ہیں۔ ایک انجینئر بریگیڈ، 19 انفٹنری،7 انجینئرنگ کی یونٹس کام کررہی ہیں، آرمی کے ہیلی کاپٹرز 26 پروازیں کرچکے ہیں۔ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گجرانوالہ میں “6 انفنٹری” کی یونٹیں اور ” 2 انجئیرنگ” کی یونٹیں سیلاب زدہ عوام کے ریسکیو کے لئے تعینات ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بہاولپور اور بہاولنگر میں 4 یونٹوں کو سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے، خیبرپختونخوا میں بھی یونٹیں اور میڈیکل بٹالین سیلاب زدہ عوام کی مدد کیلئے موجود ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آرمی انجینئر اور سول انتظامیہ نے تمام سڑکیں کلیئر کر دی ہیں، 104 سڑکیں کلیئر کردی گئی ہیں اورشاہراہ قراقرم بھی کھول دی گئی ہے۔ آرمی کے ترجمان نے بتایاکہ نارووال کے دور افتادہ علاقہ کرتار پور کے سیلاب میں پھنس جانے کے بعد فوج نے وہاں صورتحال کو سنبھال لیا ہے۔ کرتارپور میں ایک بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
سیلاب متاثرین میں 225 ٹن راشن تقسیم کیا جاچکا ہے، 20 ہزار سے زائد لوگوں کو میڈیکل کی سہولت فراہم کی گئی، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ائیر ریلیف آپریشن کیے گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *