پاکستان نیوز پوائنٹ
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں جمعرات کو 1.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی. جس کے بعد فی اونس قیمت 4 ہزار 85 ڈالر کی سطح پر آگئی، جو 14 اکتوبر کے بعد کم ترین سطح ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں، مہنگائی میں اضافے کے خدشات اور شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رہنے کے امکان نے سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھا دیا۔ایشیائی تجارتی سرگرمیوں کے دوران اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.3 فیصد کمی کے بعد 4,085.29 ڈالر فی اونس ہوگئی، جب کہ دسمبر میں فراہمی کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1.2 فیصد کمی کے ساتھ 4,100.90 ڈالر فی اونس پر آگئے۔ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ توانائی کی قیمتیں بلند رہنے سے مرکزی بینک شرحِ سود طویل عرصے تک زیادہ سطح پر برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس صورت میں سونے میں سرمایہ کاری کی کشش کم ہوجاتی ہے، کیونکہ سونا اپنے خریداروں کو سود یا باقاعدہ منافع نہیں دیتا۔سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس اور اہم معاشی اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق 27 اور 28 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں شرحِ سود بڑھنے کا امکان 15 فیصد ہے، جب کہ دسمبر کے اجلاس میں شرحِ سود میں اضافے کا امکان 91 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔اس کے علاوہ سرمایہ کار اگلے ہفتے جاری ہونے والے امریکی ذاتی کھپت کے اخراجات (پی سی ای) کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔ فیڈرل ریزرو مہنگائی کی صورت حال جانچنے کے لیے اس اشاریے کو اہمیت دیتا ہے اور اس کے نتائج مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے حوالے سے فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔تکنیکی تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کے لیے 4,073 ڈالر فی اونس کی سطح اہم سپورٹ ہے، جب کہ 4,135 ڈالر کی سطح عبور کرنے کی صورت میں قیمت 4,150 سے 4,169 ڈالر فی اونس تک جاسکتی ہے۔
