پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیرُمملکت طلال چوہدری سے چین کی نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر جنرل چی جِنگ یانگ کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی۔جس کے دوران دونوں ممالک کے مابین امیگریشن، بارڈر مینجمنٹ اور ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن، اسلحہ سمگلنگ اور سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ امیگریشن پراسس کو تیز تر بنانے کیلئے معاہدے کو جلد از حتمی شکل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ بارڈر مینجمنٹ وسکیورٹی کے لیے پاک چین مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا۔محسن نقوی نے کہا کہ لینڈ بارڈر ، سی پورٹس اور امیگریشن مینجمنٹ میں چین کے ساتھ تعاون مزید بڑھایا جائے گا۔ پاکستان حکومت کی جانب سے غیر قانونی امیگریشن، بارڈر کراسنگ اور سمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ان جرائم میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خنجراب پاس پر سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کیلئے جی بی سکاؤٹس کی چیک پوسٹ قائم کی جا رہی ہے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ باہمی تعاون سے غیر قانونی امیگریشن اور سرحدی جرائم کو روکیں کے۔ چینی وفد نے غیر قانونی بارڈر کراسنگ اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کے مؤثر اقدامات کو سراہا۔ ڈائریکٹر جنرل چی جِنگ یانگ نے کہا کہ چین اور پاکستان سٹریٹیجک پارٹنر ہیں اور پاکستان کے ساتھ تعاون کو مضبوط تر بنانا چاہتے ہیں، چین پاکستانی اداروں کی استعداد کار بڑھانے میں اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ چینی وفد نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو چین کے وزیر داخلہ کی جانب سے پبلک سکیورٹی فورم میں شرکت کا دعوت نامہ پہنچایا ۔ چینی وفد کی جانب سے فورم میں ایف آئی اے کے وفد کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ۔ چینی سفیر نے کہا کہ پاکستانی پولیس افسران اسی ماہ تربیت کے لیے چین جا رہے ہیں، چینی اساتذہ پاکستان میں سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کو چینی زبان کی خصوصی تربیت بھی فراہم کر رہےہیں۔ چینی سفیر ، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی این سی سی آئی اے، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد بھی اس موقع پر موجود تھے۔
