پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آگئی ہے.قطر نے ایک بار پھر ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنا وفد تہران بھیج دیا ہے، جہاں ایرانی حکام سے مذاکرات اور معاہدے کے امکانات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطری حکام امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔قطری وفد نے اس سے قبل بھی پانچ روز پہلے ایران کا دورہ کیا تھا، جبکہ اب ایک بار پھر وفد کی تہران آمد کو سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔اُدھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکا کی جانب سے بھیجے گئے خط کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت کے لیے تہران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران اپنی سات شرائط سے ثالثوں کو بارہا آگاہ کر چکا ہے اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کا واحد راستہ ان شرائط کو تسلیم کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دباؤ ڈالنے اور لالچ دینے کی پالیسی ایران پر اثر انداز نہیں ہوگی۔دوسری جانب دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے آغاز ہی سے ایران کے جوہری پروگرام پر بات کی جائے، جبکہ تہران کا مطالبہ ہے کہ امریکا پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔رائٹرز کے مطابق قطر نے اتوار کو ایران کے سامنے امن معاہدے کا ایک مسودہ بھی پیش کیا تھا. تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ایسے میں قطری وفد کی دوبارہ تہران آمد کو امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کی ایک اور کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی اختلافات دور ہونا ابھی باقی ہیں۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی کو خط بھیجنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ جے ڈی وینس نے یہ خط رکے ہوئے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کے طور پر بھیجا ہے۔ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے جمعرات کو بتایا تھا کہ تہران کو امریکی پیغام موصول ہوچکا ہے. تاہم ایران نے تاحال اس کا جواب نہیں دیا۔
