پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آٹزم میں مبتلا بچوں کی تعلیم، تربیت اور بحالی کے لیے اپنے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹزم کے شکار افراد کے حقوق، معاشرتی شمولیت اور مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ نے آٹزم کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات (Action) کے عزم پر بھی زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کے پہلے سرکاری آٹزم سنٹر کے قیام پر معاون خصوصی ثانیہ عاشق اور پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ لاہور میں قائم سکول آف آٹزم جیسا ادارہ دنیا میں منفرد ہے، جہاں ایرلی آٹزم کے پہلے مرحلے پر تشخیص کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے بھر کے 27 ڈویژنل پبلک سکولوں میں آٹزم سنٹر قائم کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ آٹزم کے شکار بچے آزمائش نہیں بلکہ اللہ کی نعمت ہیں، اور معاشرے کو ان کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی بار سپیشل ایجوکیشن اور خصوصی بچوں کو ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 28 سپیشل ایجوکیشن سکولوں کو سنٹر آف ایکسی لینس برائے سپیشل ایجوکیشن میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، اور صوبے بھر میں سپیشل بچوں کے لیے 70 بسیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہر ضلع میں سنٹر آف ایکسی لینس کے قیام سے ہزاروں بچوں کو معیاری تعلیم اور بحالی کی سہولت میسر ہوگی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ سپیشل بچوں کے لیے اقدامات صرف تعلیمی نہیں بلکہ معاشرتی انقلاب بھی ہیں، اور وہ پورے صوبے میں 313 اداروں کو بہتر بنانے کے عزم پر کاربند ہیں۔
