خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کو 30 مئی تک تنخواہ اور پنشن دینے کا فیصلہ کرلیا

پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے نان فائلرز پر بینک سے کیش نکلوانے پر عائد ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز پیش کر دی ہے ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے یہ تجویز دی ہے کہ اب نان فائلرز اگر ایک دن میں پچاس ہزار روپے سے زائد کیش نکلوانے کی کوشش کریں گے تو ان پر ایک اشاریہ دو فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہو گا جو کہ اس سے قبل صفر اشاریہ چھ فیصد تھا حکومت کا مقصد یہ ہے کہ جو افراد اب تک ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرواتے ان کے لیے مالیاتی سرگرمیاں اس حد تک مشکل بنا دی جائیں کہ وہ مجبوراً ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں اس سلسلے میں حکومت یکم جولائی دو ہزار پچیس سے نان فائلرز کی کیٹیگری ہی ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی شخص بغیر رجسٹریشن کے کسی قسم کا مالیاتی لین دین نہ کر سکے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو نے ٹیکس قوانین میں ترمیم کے لیے پیش کیے گئے بل ٹیکس قوانین ترمیمی بل دو ہزار چوبیس کی رپورٹ بھی منظور کر لی ہے جس کے تحت نان فائلرز کی معاشی سرگرمیوں پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی اور یہ تمام اقدامات آئندہ مالی سال کے بجٹ فنانس بل دو ہزار پچیس چھبیس کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے واضح رہے کہ فنانس ایکٹ دو ہزار تئیس کے تحت یہ شرط دوبارہ متعارف کروائی گئی تھی کہ جو افراد ایف بی آر کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل نہیں وہ اگر ایک دن میں پچاس ہزار روپے سے زیادہ کیش نکلوائیں تو ان پر مکمل رقم پر ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ٹیکس لاگو ہو گا اب اسی شرح کو دگنا کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نان فائلرز کی مالی آزادی محدود کی جا سکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *