پاکستان نیوز پوائنٹ
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ دریائے راوی میں جسٹر کے مقام پر پانی کا بہائو دو لاکھ 40 ہزار کیوسک کے قریب ہے جو کل صبح 9 بجے ہیڈ بلوکی کے مقام سے گزرے گا۔اتنے بڑے سیلاب کے باوجود پنجاب میں بہت زیادہ جانی نقصان اتنا نہیں ہوا ہے۔ بدھ کے روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ شاہدرہ سے ڈھائی لاکھ کیوسک پانی آسانی سے گزر سکتا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شاہدرہ سے تقریبا ایک لاکھ 90 ہزر کیوسک پانی گزرے گا۔ انھوں نے بتایا کہ تقریبا 38 سے 39 سال بعد اتنا پانی یہاں سے گزرے گا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ گذشتہ روز ریکارڈ بارشوں کے باعث، چناب میں پانی کا بہائو محض چند گھنٹوں کے دوران 80، 90 ہزار کیوسک سے 9 لاکھ تک پہنچ گیا تاہم سیلابی پانی ہیڈ مرالہ سے گزر گیا اور اس سے ہیڈ ورکس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ ہیڈ مرالہ پر اس وقت پانی کا بہاو 675000 کیوسک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پانی خانکی کے مقام سے گزر رہا ہے اور اس سے اسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خانکی ہیڈ ورکس کی کپیسیٹی کو کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگلے چند گھنٹوں میں یہ پانی آسانی سے یہاں سے بھی گزر جائے گا،ہمیں امید ہے چناب میں پانی دریا کے اندر سے ہی ہوتا ہوا پنجند کے مقام پر باقی دریائوں سے جا ملے گا۔عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں پچھلے پانچ سے 10 دن سے اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔انھوں نے بتایا کہ گنڈا سنگھ سے پچھلے 6 سے 8 گھنٹے سے مسلسل دو لاکھ 45 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے لیکن اس میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ اپر کیچمنٹ میں بارشیں رکی ہیں جس سے ہمیں توقع ہے کہ پانی کے بہائو میں کمی دیکھنے میں آئے گی۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ ہم نے صورتحال کے پیشِ نظر، تینوں دریاوں کے اطراف سے انخلا کو یقینی بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ اور ستلج کے اطراف سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا تھا کہ لیکن گذشتہ روز راوی اور چناب میں پانی کے بہائومیں محض چند گھنٹوں کے دوران ہونے والے اچانک اضافہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا۔انہوں نے کہا کہ راتوں رات، ان دریاوں کے اطراف سے لوگوں کو نکالا گیا اور اس کے لیے فوج کی مدد بھی لی گئی۔انہوں نے کہا کہ پانی دریا کے ساتھ موجود کچے کے علاقے سے باہر نہیں آیا۔ اب تک تمام دریاوں کے پشتے اب تک سلامت ہیں، کہیں کوئی بندنہیں ٹوٹا۔
