امریکا جلد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالے گا جس کا معاوضہ بھی وصول کرے گا ٹرمپ

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے اور اسے اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی کے بدلے معاوضہ بھی ملنا چاہیے۔فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ “ہمآبنائے ہرمز کا کنٹرول لے رہے ہیں اور اس کا انتظام بھی شاید ہم ہی سنبھالیں۔ ہم “ہرمز کے نگہبان” بنیں گے اور اس کردار کے لیے ہمیں ادائیگی کی جانی چاہیے۔”آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے اور اس پر کنٹرول کا تنازع ایران اور امریکا کے درمیان بگڑتی صورتحال کی بنیادی وجہ بن گیا ہے۔ ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کی مؤثر ناکہ بندی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جس کے بعد عالمی سطح پر افراط زر کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔امریکا ایران پر آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملے کرنے کا الزام لگا کر جنگ بندی کی مفاہتی یاداشت پر دستخط کرنے کے باوجود تہران پر متعدد حملے کر چکا ہے جس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ فریقین کے درمیان کشیدگی بڑھ کر دوبارہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ “ہم اس ہرمز کو محفوظ بنانے جا رہے ہیں. ہمیں اس کی حفاظت کے لئے معاوضہ ملے گا، بہت زیادہ پیسہ۔”انہوں نے مزید کہا کہ “ہمیں معاوضہ دیا جائے گا، کیونکہ دوسرے ممالک بہت مالدار ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ ہیں، اور ہم سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ ہم یہ کام مفت میں کریں گے۔”ہفتے کے روز “غیر مجاز ٹرانزٹ” کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کرنے کے بعد تہران نے اتوار کو کہا کہ گزرگاہ بدستور معطل ہے اور “امن و استحکام” بحال ہونے کے بعد ہی یہاں سے گزرنے کے اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔آج آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایران جہازرانی کے تحفظ کے لیے عمان کے ساتھ مشترکہ طریقہ کار وضع کر رہا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے عمان پر دباؤ کے باعث اس سلسلے میں پیش رفت متاثر ہوئی ہے۔انٹرویو میں ایران سے جنگ بندی معاہدے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “ہم نے ایک معاہدہ کیا تھا، ہر چیز طے کر لی گئی تھی، اور پھر انہوں نے اسے توڑ دیا۔ وہ ہمیشہ اسے ڈیل توڑ دیتے ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ 10 معاہدے کیے ہیں، اور اس لیے ہم انہیں سخت نقصان پہنچانے والے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *