اردو نیوز اپڈیٹس

امریکی فوج کا دو دہائیوں بعد عراق سے انخلا ایران کو کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان نیوز پوائنٹ
عراق سے امریکی فوج کا دو دہائیوں پر محیط فوجی مشن اختتام کی جانب بڑھ گیا ہے اور امریکی فورسز بدھ تک ملک میں اپنے آخری فوجی اڈے بھی چھوڑ دیں گی۔ تاہم عراقی سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی ختم ہونے سے ملک میں ایران نواز مسلح گروہوں کا اثر بڑھ سکتا ہے اور داعش کو بھی دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عراقی سیکیورٹی تجزیہ کار جاسم البہدلی نے کہا ہے کہ امریکی قیادت میں اتحاد کے انخلا سے ایران کو اسٹریٹجک فائدہ ہوگا کیونکہ امریکی فوجی موجودگی کئی سال سے عراق میں تہران کے اثر و رسوخ کے لیے ایک اہم رکاوٹ تھی۔ان کا کہنا ہے کہ ایران نواز ملیشیا گروہ امریکی انخلا کو اپنی تحریک کی کامیابی کے طور پر پیش کریں گے اور اسے سیکیورٹی اور سیاسی فیصلوں پر اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ایران نواز مسلح گروہوں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ کے کمانڈر ابو مجتبیٰ الیسیری نے امریکی انخلا کو عراقی اسلامی مزاحمتی گروہوں اور عراقی عوام کی تاریخی فتح قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ 30 ستمبر کو ہم عراق کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے خاتمے اور قبضے کی جانب سے ہمارے ملک پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی ناکامی کا جشن منائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق نے ثابت کردیا کہ اس کی خودمختاری غیرملکی افواج کے ذریعے نہیں بلکہ مزاحمت اور عوام کی مرضی سے محفوظ کی جاسکتی ہے۔امریکی فوج کا موجودہ انخلا 2024 میں سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ہو رہا ہے، جبکہ اس پر عمل درآمد موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کر رہی ہے۔امریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو اپنی داخلی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں مزید خود سنبھالنا ہوں گی، جبکہ ملک میں ایران نواز گروہوں کے بڑھتے اثر اور داعش کے دوبارہ سرگرم ہونے کے خدشات بھی برقرار رہیں گےواضح رہے کہ امریکا نے سال 2003 میں عراق پر حملہ کرکے اس وقت کے صدر صدام حسین کی حکومت ختم کی تھی۔ اس کے بعد امریکی فوج نے کئی سال عراق میں قیام کیا، قیادت میں نئی حکومت کے قیام میں کردار ادا کیا اور مسلح مزاحمت کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔ امریکی فوج 2011 کے آخر میں عراق سے نکل گئی تھی۔تاہم 2014 میں داعش کے عروج کے بعد امریکی فوج ایک بار پھر عراق واپس آئی تھی۔ امریکی قیادت میں اتحادی افواج نے عراقی فورسز کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں، جو 2014 سے 2017 تک جاری رہیں2020 میں امریکا نے بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں شہید کیا تھا۔ اس کے بعد ایران کے اتحادی مسلح گروہوں نے عراق میں امریکی سفارت خانے پر متعدد حملے کیے تھے، جن کے جواب میں امریکا نے بھی کارروائیاں کی تھیں۔عراق میں دو دہائیوں سے زائد جاری جنگ کے دوران تقریباً 4 ہزار 500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ٓتاہم عراق میں ہر حلقہ امریکی فوج کے فوری انخلا کو محفوظ پیش رفت نہیں سمجھتا۔ عراقی شہر فالوجہ کے قبائلی رہنما عبدالرحمٰن الزبیعی نے کہا کہ عراق ابھی اس مرحلے پر مکمل طور پر سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام عراقی مکمل خودمختاری چاہتے ہیں اور کوئی عراقی اس سے اختلاف نہیں کرے گا، لیکن میرا خیال ہے کہ اس انداز میں امریکی قیادت میں اتحاد کا انخلا اور ایک خلا پیدا ہونا ہی وہ چیز ہے جس کا تمام عراقیوں کو خوف ہے۔حالیہ ایران امریکا جنگ میں عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں سے 7 عراق میں مارے گئے، جن میں آخری ہلاکت جولائی میں اربیل کے قریب ایک فوجی اڈے پر ڈرون کو ناکارہ بنانے کے دوران ایک امریکی سارجنٹ کی ہوئی۔ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے نائب سربراہ امیر حیات مقدم نے کہا کہ امریکی فوج کے عراق اور خطے سے نکلنے کے بعد عراق میں پائیدار سیکیورٹی قائم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایران عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کی حمایت کرے گا۔ ان کے مطابق مزاحمتی گروہ امریکی فوجیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔امریکا ایران نواز عراقی ملیشیا گروہوں پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ تہران کی ہدایت پر خطے کے دوسرے ممالک کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔واشنگٹن کے مطابق رواں ماہ سعودی عرب کی ایک بڑی تیل پائپ لائن پر حملے میں بھی ایسے گروہوں کا کردار تھادوسری جانب عراقی سیکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکی فوج کے انخلا سے داعش کو بھی دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ داعش نے تقریباً ایک دہائی قبل عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی نام نہاد خلافت قائم کی تھی، تاہم بعد میں اسے شکست دے دی گئی تھی۔ اس کے باوجود تنظیم کے خفیہ سیل اب بھی مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔کرد کمانڈر سیرون بارزانی نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس، لاجسٹک مدد اور ڈرونز کی عدم موجودگی داعش کے جنگجوؤں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں سے زائد عرصے سے ہم نے داعش کے خفیہ سیلوں کی نقل و حرکت دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا میں اتحادی افواج کے ستمبر کے آخر تک مکمل انخلا کی خبر آنے کے بعد ان جنگجوؤں کا حوصلہ بڑھا ہے

Faisal Bukhari

Recent Posts

صدر مملکت آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات ملکی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

پاکستان نیوز پوائنٹ صدر مملکت آصف علی زرداری سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نےملاقات…

1 hour ago

وزیراعظم شہباز شریف کی لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم آفس کے مطابق پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے Dual Tranche…

1 hour ago

ابھی تک نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا ایجنڈا سینیٹ میں نہیں آیا یوسف رضا گیلانی

پاکستان نیوز پوائنٹ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ ابھی تک نئے…

1 hour ago

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز

پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزے…

1 hour ago

فورسز کی کے پی اور بلوچستان میں کارروائیاں 7 دہشتگرد ہلاک

پاکستان نیوز پوائنٹ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیوں میں 7 خوارج ہلاک ہوگئے۔سکیورٹی…

1 hour ago

ایران کو منجمد اثاثے بحال پابندیاں ختم کرنے سے متعلق کوئی پیشکش نہیں کی صدر ٹرمپ

پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ…

1 hour ago